لڑکاخریداگیا
عبدالمتین ندوی
گزشتہ قریب کی بات ہے کہ ایک غریب لڑکی کی نسبت ایک لڑکے سے طے ہوئی،مہمان تشریف لائے لڑکی والوں نے حسب استطاعت ان کی ضیافت کی پھر بات چیت کی ابتدا ہوئی اور لڑکے کی قیمت لگنی شروع ہوئی، لڑکی کے سرپرست اپنے سروں کو خم کئے اپنی حیثیت پر نظر یں جمائے۔ دلوں سے اللہ کی طرف لو لگائے۔یاس و قنوط کے عالم میں بیٹھے رہے دونوں طرف سے باتیں چلیں۔ بالاخر پونے دو لاکھ مع تمام تر ساز و سامان پر رشتہ طے ہو گیا۔ لڑکے والے خوش و خرم محدود وقت متعین کر کے فاتحانہ چلتے ہوئے یوں گویا ہوئے اپ کے پاس وقت کم ہے۔ باراتی انے سے قبل یہ پیسے مل جانے چاہیے اور سارا سامان تیار ہو جانا چاہیے، نیز باراتیوں کے لیے عمدہ انتظامات ہونے چاہیے ، کسی قسم کی اؤ بھگت میں کمی نہیں انی چاہیے ،اپ کے کال کا انتظار رہے گا ۔۔
یہ غریب والدین جو نان شبینہ کے محتاج رہتے ہیں دونوں سخت محنت اور مزدوری کر کے کسی طرح اپنے اور اپنے والدین اور بال بچوں کی پرورش کرتے ہیں جس نے کبھی اکٹھے 50 ہزار روپیے گھر میں جمع نہیں دیکھے ہیں ،ان کے گھر کا کوئی فرد پردیسوں میں مزدوری نہیں کر رہا ہے، وہ ان پیسوں کا کہاں سے انتظام کرے ان کے پاس سہارے کے لیے در پر دو تین جانور اور چند مرغیاں ہیں، کیا وہ اسے بھی فروخت کر ڈالے یا کاسہ گدائی لے کر دردر بھیک مانگے یا پھر اپنے جاننے والوں سے الحاح و زاری کر کے یوں کہے کہ مجھے کچھ قرض دے دو حسب استطاعت لوٹا دوں گا،کوئی معمولی مدد بھی کرے تویہ کہہ کر کہ بیٹی پیدا کرنا ہوتا ہے مگر اس کی شادی کا انتظام نہیں کر سکتے، اور کوئی یوں کہہ دے کہ جب معلوم ہے کہ ایک دن بیٹی کی شادی کرنی ہے تو پہلے سے انتظام کرنا چاہیے اس وقت یوں منہ اٹھا کر پیسے مانگنے اگئے تمہیں معلوم نہیں کہ اگے والوں کی کیا کیا مجبوریاں ہوں گی، خیر جو بھی ہے اس غریب والدین کو جیسے بھی پونے دو لاکھ کے ذریعے لڑکے کو خریدنا ہے اور شادی کے تمام تر اخراجات بھی پوری کرنی ہے۔
یہ وہی جگہ ہے جہاں اوراس کے اطراف میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا، ہزاروں کی تعداد میں باشندگان سنسری مرد و زن شریک اجلاس ہوئے، علماء کرام کا خطاب ہو،ا تقریریں ہوئیں، قران و سنت کی طرف دعوت اس انداز میں دی گئی کہ مجمع پر سناٹا چھا گیا زور خطابت اس قدر کہ اسمان چیر گیا، زمین لرز اٹھی، فضائیں ساکت ہو گئیں محلوں اور عمارتوں میں تزلزل پیدا ہو گیا ،مسجد کے میناروں سے صدائے بازگشت سنائی دینے لگی، سڑکوں پر چلنے والے مسافروں نے بھی اپنا سفر ملتوی کر دیا، ڈاکٹروں نے اپنے اسپتال کا کام روک دیا ،ہزاروں نہیں بلکہ کئی لاکھوں سے مزین و دلفریب و دلکش پنڈال سے اقبالیات و حالی و میر کے اشعار کے اس قدر گولے داغےگئے کہ سوشل میڈیا کا سارا خرمن جل اٹھا، فیس بک یوٹیوب واٹس ایپ پر غلغلہ تھا تو انہی کا، چرچہ تھا تو اسی بزم کا ،تمام تر نغمہ سنج، اداکار مغنی اور فنکاروں نے اپنی اپنی اداکاری روک کر اسی موضوع کو ترجیح دیا، یوں لگ رہا تھا کہ اب باشندگان سنسری میں انقلاب کی لہر دوڑ جائے گی ،لٹیرے تائب ہو جائیں گے، فاسق فسق کو چھوڑ دے گا ،چرس و نشہ کا عادی نوجوان اپنے نشے سے باز ا جائیں گے ،دھوکہ و سود کے کاروبار پر تالا لگ جائے گا، سماج صلاح و فلاح کی طرف چل پڑے گا معاشرے کی اصلاح ہو جائے گی بیٹیاں مہنگی ہوجائیگی ان کے سر پر سماج کا سایہ عاطفت پڑے گا، اسے عزت دی جائے گی غریب والدین اسے بوجھ سمجھنے کے بجائے الہی نعمت سمجھیں گے، ایک ابر کرم برسے گا جس سے معاشرے کی کھیتی لہلہا اٹھے گی، خیر و برکت عام ہوگی فساد کی ساری جڑیں سوکھ جائیں گی، مسجدیں اباد ہوں گی ہر محلے میں ایک تنظیم قائم ہوگی جن کی نگرانی میں -اؤ قران و سنت کی طرف- کا اعلان ہوگا اور ہر فرد کو اس پر عمل کروایا جائے گا، غلط چیزوں پر تنقید کی جائے گی، بیواؤں اور یتیموں کو سہارا ملے گا مظلوموں کا ساتھ دیا جائے گا، ظالموں کا پنجہ مڑور دیا جائے گا۔
مگر نخل تمنا بارآور نہ ہو سکا، دل کی کلیاں نہ کھل سکیں، بہار کے ایام نہ لوٹ سکے، خزاں رسیدہ معاشرہ رشک جناں نہ بن سکا، نہ سوچ میں تبدیلی آئی نہ فکر بدلا، نہ عمل کی کسوٹی پر کوئی فرق پڑا، نہ دلوں کا زنگ دور ہوا نہ گندگی کی طرف اٹھنے والے پاؤں میں لرزش ائی ،نہ ظلم کی طرف اٹھنے والے ہاتھ میں جنبش ، نہ غلط بول لگانے والے کی زبان پر لرزہ طاری ہوا نہ انفرادیت کے اشغال میں فرق پڑا ،نہ اجتماعیت کے اعمال میں تبدیلی ائی ،نہ شوق بدلا، نہ ذوق، معاشرہ جن برائیوں میں کراہ رہا تھا وہ جوں کا توں قائم رہا ،زکوۃ و صدقات وفطرے کے مستحق جنہیں قران میں انما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها( الى اخر الايه )کا اولین حق تھا اس سے فقرا و مساکین محروم رہا ،ان فنڈوں کے مستحقین صرف مدرسے اور تنظیم والے ہی ٹھہرے، جلسے اور پروگراموں پر لاکھوں صرف کے لیے پیسے رہے مگر غریبوں اور مسکینوں، قرض داروں ،بیمار زدہ کے لیے کوئی مالی معاونت کی تنظیم نہ بن سکی، قید تنہائی میں بیٹھ کر فرد مسلم اپنا جائزہ نہ لے سکا اور اپنا محاسبہ نہ کر سکا نہ خود بدلا اور نہ اوروں کو بدلنے کی تلقین کی۔
افسوس صد افسوس” ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم واذا اراد الله بقوم سوءا فلا مرد له وما له من دونه من وال”