حماس اسرائیل جنگ بندی معاہدہ

حماس اسرائیل جنگ بندی معاہدہ

فیز ٹو: بقیہ یرغمالیوں کی اسرائیل کو حوالگی:
جنگ بندی کے دوسرے فیز میں زندہ مرد فوجیوں اور شہریوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ مارے جانے والے یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس وقت 94 یرغمالی موجود ہیں جن میں سے 34 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ میں چار مزید اسرائیلی شہری بھی موجود ہیں جنھیں جنگ کے شروع ہونے سے قبل اغوا کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق حماس کے جن جنگجوؤں نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا انھیں رہا نہیں کیا جائے گا۔اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بعد ہی اپنے فوجیوں کو مکمل طور پر واپس بلالے گا۔اس کے بعد یہ مبینہ طور پر غزہ کے مشرقی اور شمالی اطراف میں 800 میٹر چوڑے بفر زون برقرار رکھے گا جو اسرائیل کی سرحد سے متصل ہے اور غزہ پر سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا۔
فیز تھری: غزہ کی تعمیرِ نو:
توقع کی جا رہی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کا تیسرا فیز غزہ کی تعمیر نو سے متعلق ہے۔ خیال رہے کہ حماس اور اسرائیل کی جنگ کے دوران غزہ کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔غزہ کا بہت بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے لہٰذا! اس مرحلے یعنی تعمیرِ نو کے کام میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
کن نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے؟
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے اور تیسرے مرحلے پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ ان کے بارے میں مذاکرات ابتدائی جنگ بندی کے 16 ویں دن شروع ہوں گے۔لیکن اب بھی کچھ سوالات موجود ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ: غزہ کے انتظامی امور کس کے ہاتھ میں ہوں گے؟اسرائیل غزہ کا انتظام حماس کو دینے کے حق میں نہیں ہے اور اس نے اس کے اتنظامی امور فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے جو کہ غربِ اردن میں اسرائیل کے قبضے میں موجود متعدد علاقوں کا انتظام سنبھالتی ہے۔اسرائیل موجودہ تنازع کے اختتام کے بعد بھی غزہ کی سکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں چاہتا ہے۔
تاہم اسرائیل امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر غزہ میں ایک عبوری انتظامیہ تشکیل دینے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے جو فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات ہونے تک غزہ کا انتظام چلائے گی۔اس وقت حماس شاید اس پریشانی کا بھی شکار ہو کہ کہیں جنگ بندی کا پہلا فیز مکمل ہونے کے بعد اسرائیل کسی مستقل معاہدے سے انکار ہی نہ کر دے۔اگر اسرائیلی وزیر اعظم حماس کے ساتھ کسی امن عمل کے لیے راضی بھی ہو جاتے ہیں تب بھی ہو سکتا ہے کہ شاید وہ اپنی کابینہ کو اس بات پر راضی نہ کر سکیں۔
اسرائیلی وزیرِ خزانہ بتسلئيل سموتريش اور قومی سلامتی کے وزیر إيتمار بن غفير ایسے کسی بھی معاہدے کے مخالف ہیں۔سموتریش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے ’قیامت خیز‘ ثابت ہوگا اور وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے۔حماس کو مبینہ طور پر خدشہ ہے کہ اسرائیلی حکومت ان یرغمالیوں کی واپسی کے بعد ایک مرتبہ پھر سے غزہ پر حملے شروع کر سکتا ہے جنھیں امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے دوران واپس لایا جانا ہے۔
دیگر تفصیلات بھی ہیں جو اس معاہدے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
اسرائیل تمام یرغمالیوں کی واپسی چاہتا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کون سے یرغمالی زندہ ہیں یا مر چکے ہیں اور ممکن ہے کہ حماس کے پاس ان میں سے کچھ کا سراغ تک نہ ہو۔اسرائیل ان قیدیوں کو رہا کرنے سے بھی انکار کر رہا ہے جنھیں حماس رہا کروانا چاہتی ہے۔ ان میں مبینہ طور پر وہ لوگ بھی شامل ہیں جو 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث تھے۔اور یہ معلوم نہیں ہے کہ اسرائیل غزہ کی سرحدوں پر مجوزہ بفر زون سے اپنے فوجیوں کو کب نکالے گا یا انھیں مستقل طور پر وہاں رکھے گا۔
غزہ میں جنگ جنوبی اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے بعد شروع ہوئی تھی۔ مسلح گروہ کے اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 251 شہریوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔اس کے بعد اسرائیل نے حماس کو تباہ کرنے کے لیے غزہ پر حملہ کر دیا تھا۔غزہ میں فلسطین کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق رواں مہینے کی 14 تاریخ تک غزہ میں 46 ہزار 640 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں