بہار کے مسلمانوں کے لیے ممکنہ لائحۂ عمل
آخری قسط : بہار کے مسلمانوں کے لیے ممکنہ لائحۂ عمل اصلاح، اتحاد اور خود انحصار ی۔
طارق انور ندوی:
تعارف:بہار کے مسلمانوں کی سیاسی، معاشی، تعلیمی اور سماجی پسماندگی پر بات کرنے کے بعد اب سب سے اہم سوال یہ ہے:“کیا کیا جائے؟
”یہ قسط ایک مثبت اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کرتی ہے، جو بہار کے مسلمانوں کی حالت بدلنے کی جانب ایک سنجیدہ قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
(1)تعلیم کو اولین ترجیح بنانا ہوگا:
دینی و عصری تعلیم کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ہر علاقے میں کم از کم پرائمری سطح کے معیاری اسکول، کوچنگ سینٹر، اور تربیتی ادارے قائم کیے جائیں۔لڑکیوں کی تعلیم کو خصوصی اہمیت دی جائے۔مدارس میں جدید مضامین (انگریزی، ریاضی، سائنس، کمپیوٹر) کو شامل کرنا لازمی ہو۔
(2) معاشی خود انحصاری کی سمت قدم بڑھانا:
چھوٹے کاروبار، ہنر مندی، زرعی اصلاحات اور خود روزگار کے مواقع پر توجہ دی جائے۔مسلم علاقوں میں تعاونی سوسائٹیاں (Cooperative Societies)، سیلف ہیلپ گروپس (SHG)، اور چھوٹے مالیاتی ادارے قائم ہوں۔سرکاری اسکیموں میں شمولیت کے لیے رہنمائی اور مدد کیلئے مراکز بنائے جائیں۔
(3) سیاسی شعور اور مؤثر قیادت کی تیار:
مسلمانوں کو صرف ووٹر نہیں، بلکہ فیصلہ ساز بننے کی تربیت دی جائے۔علاقائی قیادت کو فروغ دیا جائے جو دیانت دار، تعلیم یافتہ، اور غیر فرقہ وارانہ سوچ رکھتی ہو۔ہر حلقے میں نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا انتظام کیا جائے۔
(4)اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی :
مسلکی و لسانی اختلافات کو محدود کرکے مشترکہ مسائل پر اجتماعی لائحہ عمل اپنایا جائے۔شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث کے درمیان اعتماد، مکالمہ، اور تعاون کی فضا قائم کی جائے۔دیگر اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ اتحاد اور انصاف پر مبنی جدوجہد کی جائے۔
(5)ادارہ جاتی ڈھانچہ اور تنظیم سازی:
تعلیمی، طبی، قانونی امداد، خواتین کی فلاح، اور یتیموں کی کفالت کے لیے غیر سرکاری ادارے (NGOs) قائم کیے جائیں۔ہر بڑے قصبے میں ایک “ملت سروس سینٹر” ہو، جہاں معلومات، مشورہ، اور عملی مدد فراہم کی جائے۔
(6) میڈیا، تحریر اور آواز کا استعمال:
اردو، ہندی، انگریزی زبانوں میں اپنی آواز بلند کی جائے۔نوجوانوں کو صحافت، یوٹیوب، بلاگنگ، اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملت کی بات کہنے کی تربیت دی جائے۔جھوٹے پروپیگنڈے کا مدلل جواب دیا جائے، مگر پرامن اور قانونی دائرے میں رہ کر۔
خلاصئہ کلام:
بہار کے مسلمانوں کے پاس وقت کم اور چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔ اگر ہم صرف شکایت کرنے یا جذباتی ردعمل تک محدود رہے تو حالات مزید خراب ہوتے چلے جائیں گے۔بہار کی سیاسی جماعتوں نے عشروں سے مسلمانوں کو محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ہے، ان کے حقیقی مسائل کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اپنی سیاسی سمت کا خود تعین کریں، باوقار قیادت، تعلیمی ترقی، اور سیاسی اتحاد کے ذریعے اپنے لیے ایک مضبوط مستقبل بنائیں۔
قوموں کی تقدیر صرف جلسوں سے نہیں، منصوبہ بندی، قربانی، اور قیادت سے بدلتی ہے۔بہار کے دانشوران اگر اپنی صلاحیتوں کو محض ذاتی مقام، تنقید یا خاموشی تک محدود رکھیں گے، تو آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔آج وقت ہے کہ ہم اپنے علمی اور اخلاقی سرمایے کو ملت کی خدمت کے لیے وقف کریں۔بیدار ہوں، متحد ہوں، اور آگے بڑھیں کیونکہ کل کی تاریخ آج کی رہنمائی سے لکھی جاتی ہے۔قرآن کہتا ہے:“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں اس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے” (سورۃ الرعد: 11)۔
پہلی قسط: بہار کے مسلمانوں کا تاریخی پس منظر
https://guftar.in/بہار-اور-مسلمانتاریخ،معاش،-تعلیم-اور/
دوسری قسط: بہار کے مسلمانوں کی معاشی
حالت( غربت، تعلیم اور روزگار )
https://guftar.in/بہار-کے-مسلمانوں-کی-معاشی-حالت-غربت،-تع/
تیسری قسط: بہار کے مسلمانوں کے تعلیمی ادارےاور مسلم نوجوانوں کا مستقبل
https://guftar.in/بہار-کے-مسلمانوں-کے-تعلیمی-ادارے،-مدار/
چوتھی قسط:بہار کے مسلمانوں کی قیادت
https://guftar.in/بہار-کے-مسلمانوں-کی-قیادت/
پانچویں قسط: بہار کے مسلمانوں کے اہم علاقے