اندھیری رات کا مہمان دوسری قسط: کتاب کا راز Andheri rat ka mehman

اندھیری رات کا مہمان

اندھیری رات کا مہمان
طارق انور ندوی:
دوسری قسط:کتاب کا راز۔
نعمان کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ دیا بجھ چکا تھا، اور بابا سلیم کی آواز اب نہیں آ رہی تھی۔
بابا…؟نعمان نے آہستہ سے پکارا۔
کوئی جواب نہیںملا۔وہ ٹٹولتے ہوئے دیے کی طرف بڑھا، جیب سے لائٹر نکال کر جلایاتو دیکھاکہ جھونپڑی ویسے ہی تھی، مگر… بابا سلیم غائب تھے!
نہ اُن کا بستر، نہ ان کا لباس نہ ہی اور کوئی اس کے متعلق سامان۔ صرف وہی پرانی کتاب میز پر رکھی تھی۔
نعمان کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی، لیکن تجسس غالب آ گیا۔کتاب کھولی، تو پہلے صفحے پر لکھا تھا:”یہ کتاب صرف اُس کے لیے ہے جسے وقت نے چُنا ہے۔
ہر صفحہ خود ہی کھلے گا جب وقت ہو گا!”پہلا صفحہ خودبخود پلٹا، اور اس پر نقش تھا:
باب العلم (علم کا دروازہ)
نعمان کو یاد آیا، بچپن میں اس کی نانی نے ایک کہانی سنائی تھی ایک ایسے دروازے کی، جو صرف “سچے دل” والوں کے لیے کھلتا ہے۔لیکن یہ سب سچ کیسے ہو سکتا تھا؟ کیا وہ خواب دیکھ رہا تھا؟ یا کوئی جادو؟
اچانک کتاب سے روشنی نکلی، اور نعمان کی آنکھوں کے سامنے ایک نقشہ ابھرا۔اس نقشے پر ایک پرانا درخت، ایک کنواں، اور ایک غار دکھائی دے رہے تھے۔پھر ایک جملہ نمودار ہوا:
اسے تلاش کرو، ورنہ تمہارا اپنا وجود سوال بن جائے گا!
اس جملے کو دیکھتے ہی نعمان کی سانسیںپھولنے لگیں۔ اس نے کتاب بند کی، اور دوڑتے ہوئے باہرآگیا۔
لیکن بارش تھم چکی تھی، سناٹا چھایا ہواتھااور گاؤں جیسے سوچکے ہوں۔
اور اب… نعمان کی زندگی کبھی پہلے جیسی نہ رہنے والی تھی۔
آگے کیا ہوگا؟
تیسری قسط:
نعمان کیا واقعی درخت، کنویں اور غار کو تلاش کرے گا؟
کیا گاؤں والے کچھ جانتے ہیں؟
بابا سلیم کہاں گئے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں