گمشدہ راستے (اندھیری رات کا مہمان)
تیسری قسط:
گمشدہ راستے
صبح کے پہلے پہر نعمان کی آنکھ کھلی تو وہ بابا سلیم کی جھونپڑی میں ہی موجود تھا۔ لیکن عجیب بات یہ تھی…نہ کتاب تھی، نہ میز، نہ وہ دیا… اور نہ ہی وہ جھونپڑی ویسی لگ رہی تھی۔جیسے یہ سب کچھ بس خواب ہو یا پھر کچھ ایسا، جو عام آنکھ سے چھپا ہو۔
نعمان گاؤں واپس آیا، سیدھا چوہدری جی کے پاس گیا جو گاؤں کے سب سے پرانے اور عقلمند آدمی مانے جاتے تھے۔
نعمان:بابا سلیم… کل رات میں ان کی جھونپڑی میں تھا… لیکن…..
چوہدری جی نے فوراً بات کاٹ دی۔”بس!
بابا سلیم کا نام نہ لو، وہ 20 سال پہلے مر چکے ہیں!
نعمان ساکت ہو گیا۔لیکن میں ان سے ملا ہوں! اُن کے پاس کتاب تھی، اور…
چوہدری جی نے گہری سانس لی اور ایک کمرے میں لے گئے جہاں پرانی اشیاء اور تصاویر تھیں۔ایک تصویر نکالی بابا سلیم کی۔
اور ساتھ میں ایک اور شخص… جو بالکل نعمان جیسا تھا، مگر تصویر کم از کم 50 سال پرانی تھی!
چوہدری جی نے کہا:
تمہاری آنکھوں میں وہی سوال ہے جو اس نوجوان کی آنکھوں میں تھا۔وہ بھی ایک دن آیا تھا، کتاب کے پیچھے… اور پھر… کبھی واپس نہیں آیا۔
نعمان نے ہمت کر کے چوہدری جی سے پوچھا:”یہ ‘باب العلم’ کا درخت کہاں ہے؟
چوہدری جی چونکے…”تو وہ صفحہ کھل چکا ہے؟ تم منتخب ہو چکے ہو…
انہوں نے ایک پرانا نقشہ نکالا اورنعمان کو بتایاوہ درخت، گاؤں کے شمالی کنارے پر تھا، لیکن اب وہاں صرف ایک کھنڈر ہے جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہاں آوازیں آتی ہیں… اور سایے چلتے ہیں!
نعمان نے فیصلہ کر لیا۔ اب پیچھے ہٹنا ممکن نہیں تھا۔
اس رات وہ نقشے کے مطابق کھنڈر کی طرف روانہ ہوا۔راستے میں پرانی قبریں، خشک درخت اور اُڑتے ہوئے الو ،ماحول جیسے بتا رہا ہو:”واپس چلے جاؤ… یہ راستہ تمہارے لیے نہیں!
لیکن جب وہ کھنڈر کے پاس پہنچا، تو ایک اچانک ہوا کا جھونکا آیا اور زمین ہلنے لگی۔اور نعمان کے قدموں کے نیچے… زمین پھٹنے لگی۔
پھر اچانک… سب کچھ ساکت ہو گیا۔
اس کے سامنے ایک دروازہ ابھرا دروازے پر لکھا تھا: “باب العلم صرف سچائی کے متلاشی کے لیے”
آگے کیا ہوگا؟
چوتھی قسط میں:کیا نعمان دروازہ کھول پائے گا؟
اندر کون سا راز اُس کا منتظر ہے؟
اور پرانی تصویر میں اس کا ہم شکل کون تھا؟
دوسری قسط: