Saad bin abi waqqas solders of islam, warriors of Islam

حضرت سعد بن ابی وقاص

حضرت سعد بن ابی وقاص:
یہ بات غور طلب ہے کہ اسلام کے زریں عہد میں یعنے عہد نبوی اور خلافت راشدہ کے زمانے میں متقی، پرہیز گار، روحانیت، حقانیت و وحدانیت میں ڈوبے ہوئے بزرگ بھی میدان کارزار میں سپہ سالار کا کام انجام دیتے تھے۔ سب سے بڑے ، سب سے عظیم ، سب سے قابل ، ماہر وکامل سپہ سالار خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ جن کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ حیدر کرار حضرت علی کرم اللہ وجہ جیسے بہادر آپ کی اوٹ کا سہارا لیتے تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کاوہ پر آشوب زمانہ تھا جبکہ ایک قلیل دس بارہ سال کی مدت میں ساری دنیا کو اور ہمیشہ کے لئے ایک مکمل نظام حیات کا نقشہ پیش کرنا مقصود تھا۔ مکہ کی زندگی سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ انسانیت حق کو آسانی سے قبول نہیں کرتی ۔ ترک وطن کے بعد بھی دشمنان اسلام نے ہادئ دین رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو چین سے اپنا کام پورا کرنے کا موقع نہیں دیا۔ جنگ بدر سے لے کر جنگ تبوک تک کئی غزوے ظہور میں آئے ۔ اسلامی تعلیمات میں یہ بات واضح ہو گئی کہ جدو جہد کے بغیر کوئی چیز حاصل نہیں ہوگی ۔ جس چیز کی قیمت جس قدر زیادہ ہوگی اسی مناسبت سے اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی چونکہ دین اسلام حکومت الہیہ کے قیام کا منصوبہ بھی رکھتا تھا اس کیلئے حد درجہ جانبازی، قربانی و خون جگر چاہئے تھا۔ اس لئے اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کا حکم آیا ہے۔ جہاد ذاتی اقتدار کے لئے نہیں، ذاتی منافع کیلئے نہیں ، عیش و عشرت کے لئے نہیں بلکہ صرف تشہیر حکم خداوندی کے لئے ،تبلیغ دین متین کے لئے، تعلیم و تدریس کتاب اللہ وسنت رسول کے لئے جہاد کا حکم آیا ہے۔ جن بزرگوں نے یہ کام بخوبی انجام دیا، ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص کا نام بھی آتا ہے۔
سعد بن ابی وقاص کا پورا نام، ابوالحق ، القرشی الزہری، المکی تھا۔ آپ کے والد مالک بن وہب بن عبد مناف تھے۔ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں، عالی مرتبہ صحابی اور حضور کے قدیم ترین محبوب ترین اصحاب میں سے تھے۔ ان کا شمار حضور کے عشر مبشرہ میں تھا۔ آپ غزوہ بدر سے فتح ایران کے مشہور غزوہ القادسیہ تک کئی غزوات میں شریک رہے۔ آپ فاتح ایران ہیں، اور فتح ایران تاریخ اسلام میں خاص خصوصیت رکھتا ہے۔ فتح ایران و زوال کسریٰ اسلام کا عظیم الشان کا رنامہ ہے ۔ فتح عراق و شکست قیصر روم بھی عظیم کارنامہ تھا۔ مگر قیصر روم صفحۂ ہستی سے مٹایا نہیں گیا۔ سلطان صلاحالدین ایوبی کے زمانے تک روم کے قیصر اسلام کے خلاف برابر لڑتے رہے۔ لیکن حضرت سعد بن وقاص کے ہاتھوں جب ایران فتح ہوا تو کسریٰ کا بھی خاتمہ ہو چکا۔ ایران مکمل طور پر مملکت اسلامیہ کا جز بن گیا جہاں وہ بات نہ ہوئی جو صلیبی جنگوں سے منسلک ہے۔ اسلئے حضرت سعد بن ابی وقاص کی سپہ سالاری کی خاص اہمیت ہے۔ حضرت خالد بن ولید کی معزولی کے بعد ایران کی شورِش دبانے کے لئے ایک اچھے سپہ سالار کی سخت ضرورت تھی۔ ایران کی جنگ طول پکڑ رہی تھی اور دن بدن سنگین ہوتی چلی جارہی تھی۔ ایک ایسا وقت بھی آیا جبکہ خود حضرت عمر فاروق اس جنگ کی سپہ سالاری کا کام انجام دینے پر مستعد ہو گئے تھے۔ بڑی مشکل سے انہیں روکا گیا۔ خلافت کی عظیم ذمہ داریاں مدینہ ہی میں کیا کم تھیں کہ وہ دور دراز جنگ کی سپہ سالاری بھی قبول کرتے؟ چنانچہ مجلس شوری میں از حد غور وفکر کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف نے فرمایا کہ میں ایک ایسے شخص کا نام لیتا ہوں جس سے بہتر کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر انہوں نے حضرت سعد کا نام پیش کیا ۔ سبھوں نے اس کی تائید کی اور حضرت عمر فاروق نے بھی پسند فرمایا۔ ان دِنوں حضرت سعد قبیلہ ہوازن کے صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ انہیں فورا ًمدینہ طلب کر لیا گیا اور ایران کی جنگ کے سپہ سالار مقرر کر دئے گئے۔
سعد بن وقاص چار ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ثعلبہ نامی مقام پر پہنچ کر مقیم ہوئے۔ مثنیٰ بن حارث بھی آٹھ ہزار کا لشکر لئے آپہنچے۔ قبیلہ نبی اسد کی تین ہزار کی فوج بھی سعد کی مدد کے لئے تیار تھی۔ آہستہ آہستہ لشکر اسلام کی تعداد میں ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ حضرت عمر فاروق کا حکم آیا کہ قادسیہ مقام پر اپنے مورچے قائم کرو۔ جہاں سے ایران کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ اس مہم میں سلمان فارسی رسد کے افسراعلی تھے۔ جب ایرانیوں کو یہ خبر پہنچی کہ لشکر اسلام قادسیہ میں مقیم ہے تو یزد جرد شہنشاہ ایران نے اپنے وزیر جنگ رستم کو طلب کیا اور حکم دیا کہ خود لشکر عظیم لے کر قادسیہ روانہ ہو جاؤ۔ ایرانیوں کی فوج دیڑھ لاکھ کی تھی۔ حضرت عمر نے سعد کو لکھا کہ تم ایرانیوں کی کثرت افواج و ساز و سامان سے ہرگز مرعوب نہ ہونا، ایک سفارت شاہ ایران کے پاس بھیجنا ، قبول اسلام کی دعوت دینا اور کسی سمجھدار، خوش گفتار سفیر کو منتخب کر کے روانہ کرنا۔ چنانچہ ایک دس رکنی اسلامی سفارت مدائن پہنچا۔ شاہ ایران ان کی سادگی پر حیران رہا۔ نہایت گستاخانہ انداز میں دریافت کیا کہ عرب جو جاہل سمجھے جاتے تھے، انہیں کیسے یہ ہمت ہوئی کہ کسریٰ کا مقابلہ کرے ۔ یہ سن کر نعمان بن مقرن نے جواب دیا کہ اسلام کی وجہ سے عربوں میں ایک انقلاب آچکا ہے۔ وہ حق کا پیغام ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔ جو اسلام یا جزیہ دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں ان کے اور ہمارے درمیان تلوار فیصلہ کرتی ہے۔ شاہ ایران اس گفتگو کو سن کر برافروختہ ہوا، کہا تم لوگ محض وحشی ہو، تمہاری تعداد بھی کم ہے۔ تم کو کھانے کے لئے ہم غلہ دیں گے، پہننے کے لئے کپڑے دیدیں گے اور تم پر ایسا حاکم مقرر کریں گے جو تمہارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے گا۔ حضرت قیس نے جواب دیا کہ سفارت میں عرب کے شریف اور رئیس زادے شامل ہیں۔ وہ وحشی نہیں۔ ان کی سادگی سے کوئی غلط اندازہ نہ کیا جائے ۔ شرفائے عرب لغو باتوں کا جواب دینے سے شرماتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام سے قبل ہم وحشی و جاہل ضرور تھے لیکن خدائے تعالے نے ہم پر بڑا فضل و احسان کیا کہ ہماری ہدایت کے لئے ایک نبی بھیجا، جنہوں نے ہم کو صراط ِمستقیم کی ہدایت کی حق و صداقت کے دشمنوں کو پسپاکیا، تبلیغ دین اسلام کا حکم دیا۔ پس تمہارے لئے اب مناسب ہے کہ یا تو جز یہ دو یا اسلام قبول کر لو۔ یزدجرد آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے کہا اگر سفیروں کو قتل کرنا جائز ہوتا تو تم کو ضرور قتل کر دیتا۔ پھر اپنے نوکروں کو حکم دیا ایک مٹی کی ٹوکری عربوں کے سردار پر رکھ دے اور انہیں مدائن سے باہر نکال دے۔ پھر کہا کہ رستم تم سب کو قادسیہ کی خندق میں دفن کر دے گا۔ جب مٹی کی ٹوکری لائی گئی تو حضرت عاصم نے فورا اٹھ کر وہ ٹوکری اپنے کاندھے پر رکھ لی اور کہا کہ میں اس وفد کا سردار ہوں ۔ مٹی کی ٹوکری لے کر حضرت سعد کے پاس آئے اور کہا مبارک ہو ایران فتح ہو گیا خدائے تعالی نے ان کے ملک کی مٹی ہم کو عطا کی ہے۔
ایران کی کل فوج ایک لاکھ اسی ہزار ہوگئی۔ ایک سو ہاتھی تھے۔ سب سے بڑھ کر رستم ان کا سپہ سالار تھا جس کی بہادری کا ڈنکا سارے عالم میں بج رہا تھا۔ پھر بھی رستم لڑائی کو ٹالنا چاہتا تھا۔ قادسیہ پہنچ کر اس نے حضرت سعد سے ایک سفیر طلب کیا ۔ حضرت ربعی بن عامر بھیجے گئے ۔ رستم نے اپنا شاندار دربار سجایا۔ سونے کا تخت بچھوایا، حریرودیباز کا قالین لگا دیا۔ ربعی اس فرش کو اپنی تلوار سے سوراخ بناتےہوئے تخت کی طرف آگے بڑھے اور رستم کے برابر جا بیٹھے۔ لوگوں نے ان کو نیچے اتارنا چاہا۔ آپ نے کہا کہ میں آپ کی دعوت پر آیا ہوں۔ اپنی کوئی استدعا لے کر نہیں آیا ہوں ۔ اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ ایک شخص خدا بن کر بیٹھے اور باقی آدمی بندوں کی طرح ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑے ہوں۔ آپ نے رستم سے کہا کہ ہم کو تمہارے پر تکلف فرش کی ضرورت نہیں ۔ ہمارے لئے خدائے تعالی کا عطا کر دہ زمین کا فرش کافی ہے۔ یہ کہتے ہوئے خود نیچے اتر آئے ۔ رستم نے دریافت کیا کہ جنگ کا مقصد کیا ہے۔ ربعی نے جواب دیا کہ اسلام کی اشاعت مقصود ہے۔ قبول اسلام یا جزیہ پر ہم مصالحت کر سکتے ہیں۔ رستم نے پوچھا کیا تم مسلمانوں کے سردار ہو۔ آپ نے کہا میں ایک سپاہی ہوں، مسلمانوں کا ہر فرد خواہ کتنا ہی ادنیٰ ہو، اعلیٰ کی طرف سے اجازت دے سکتا ہے۔ یہ سن کر رستم حیران رہ گیا۔ رستم نے کہا تمہاری تلوار بوسیدہ نظر آتی ہے۔ ربعی نے تلوار نیام سے کھینچ کر کہا اس میں آپ بھی دکھائی دیتے ہیں۔ رستم نے کہا تمہارا نیز ہ بہت چھوٹا ہے۔ آپ نے کہا لڑائی کے وقت یہ دشمنوں کے دل چیر دیتا ہے۔ چھوٹی سی چنگاری شہر کو جلا دینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ رستم دوسرے دن بھی ایک ایلچی کو طلب کیا۔ حضرت سعد نے حضرت حذیفہ بن محض کو بھیجا۔ حذیفہ گھوڑے سے اترے بغیر رستم کے پاس پہنچے۔ رستم نے پوچھا کہ حضرت ربعی کو کیوں نہیں بھیجا گیا۔ حذیفہ نے کہا ہمارا سردار ہر شخص کو ہر خدمت کا موقع دیتا ہے۔ کل انکی باری تھی۔ آج میری باری ہے۔ رستم نے کہا تم ہم کو تین دنوں کی مہلت دے سکتے ہو۔ آپ نے کہا تین دن کی۔ اسلام قبول کرودیا جنگ لڑو۔ حذیفہ واپس ہو گئے۔ حذیفہ کی حاضر جوابی سے دربار دنگ رہ گیا۔ رستم نے ایک اور سفیر طلب کیا۔ حضرت سعید نے مغیرہ بن شعبہ کو روانہ کیا۔ رستم نے مغیرہ کولا لچ دینا چاہا اور دھمکی بھی دی۔ مغیرہ نے معقول جواب دیا جس سے رستم کو غصہ آیا۔ کہا اب تم سے صلح نہ ہو گی۔ تم سب کو قتل کر ڈالوں گا۔ حذیفہ چلے آئے۔
جنگ قادسیہ:
اسلام کی مشہور جنگ شروع ہونے لگی۔ رستم نے فوج کو تیاری کا حکم دیا۔ دونوں لشکروں کے درمیان ایک نہر حائل تھی۔ رستم نے پل تیار کرلیا۔ حضرت سعد سے پوچھا کہ تم نہر پار کر کے حملہ کرو گے۔۔۔؟

اسلام کے جواہر پارے (جلد دوم)

کیاآپ ٹیکنالوجی کے ترقی کے اس دور میں کمپیوٹر کی تعلیم سے ناواقف ہیں۔۔۔؟
تو اس چینل پر آپ کیلئے کمپیوٹر کورس بالکل آسان اور سہل انداز میں بالکل تفصیلات کے ساتھ اردو زبان دستیاب ہے۔

https://www.youtube.com/@TariqueForU

اپنا تبصرہ بھیجیں