Tariq bin Ziyad_Tariq bin Ziyad – The Muslim Conqueror of Spain | فاتح اندلس طارق بن زیاد

فاتح اندلس طارق بن زیاد

طارق بن زیاد
فاتح ہسپانیہ (اندلس) طارق بن زیادہ دنیا کے جلیل القدر سپہ سالاروں میں سے ہے جس نے ایک مٹھی بھر فوج لے کر ایک عظیم الشان سلطنت پر قابض ہو گیا۔ وہ حلقہ اسلام کا اولین فاتح تھا جس نے براعظم یوروپ پر پہلا قدم رکھا۔ اس نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد ڈالی جو سات سو سال قائم رہ کر تہذیب و تمدن کے وہ چراغ روشن کی کہ یوروپ نشاۃ ثانیہ سے جگمگا اٹھا۔ طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم تاریخ اسلام کے وہ دو درخشاں ستارے تھے جن کی دمکتی تلوار نے مملکت اسلامیہ کو بحراوقیانوس سے بحر الہند تک پھیلا دیا ۔ ظہور اسلام کے بعد ایک صدی کے اندر اسلام ایشیاء، افریقہ، اور یوروپ تینوں براعظموں پر پھیل گیا جو اس زمانے میں ساری دنیا کہی جاتی تھی۔ ان دو بہادر سپاہ سالاروں کے بعد کسی اور کو توفیق نصیب نہیں ہوئی کہ اسلامی پرچم مزید علاقوں پر بھی لہرایا جائے ۔ ان دونوں کے بعد اذاں سحر کی گونج کسی اور نئے خطہ پر بلند نہ ہوئی۔ بحیثیت انسان طارق بن زیاد ایک متقی ، فرض شناس او ر بلند ہمت سپاہی تھا جس میں جذبہ جہاد کے علاوہ قیادت و عزیمت کے جو ہر بھی بدرجہ اتم موجود تھے۔ سمندر پار کرنے کے بعد جہازوں کو جلانے کا حکم دے کر اس نے ہمت و حوصلہ کا ایک ایسا تاریخ ساز نمونہ پیش کیا جس کی مثال کہیں نظر نہیں آتی۔ اس کے حسن اخلاق کی بنا پر عوام اور فوجی سب جا نثار تھے۔ ایک مقبول عام سپہ سالار کے سامنے سب کے سر عزت و احترام سے جھک جاتے تھے۔ جب اس بات کو اگر ملحوظ رکھا جائے کہ وہ موسیٰ بن نصیر کا آزاد کردہ غلام تھا تو اسلامی مساوات کا ایک ایسا نقشہ ذہنوں میں ابھرتا ہے جہاں آدم خاکی کو ماننا پڑے گا کہ مسلمانوں نے خالق کی وحدت اور خلقت کی وحدت کے پیغام کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی تھی۔
طارق بن زیاد کے حسب و نسب کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ الادریسی کے نزدیک وہ زناقہ کا بر بر تھا ،جب کہ ابن خلدون اسے طارق بن زیادہ الیشی بتاتے ہیں۔ بعض مورخین کی رائے میں وہ ایرانی الاصل اور ہمدان کا باشندہ تھا۔ ابن عذاری نے اس کا مکمل شجرہ لکھا ہے اور اس کا تعلق بنو نفزہ سے ملایا ہے۔ بہر حال یہ بات یقینی ہے کہ وہ موسیٰ بن نصیر کا آزاد کردہ غلام اور نائب تھا۔ طارق بن زیادکی تعلیم وتربیت موسیٰ بن نصیر جیسے ماہر حرب اور عظیم سپہ سالار کے زیر نگرانی ہوئی تھی۔ طارق نے فن سپہ گری میں بہت جلد شہرت حاصل کر لی۔ اس کی بہادری اور جنگی صلاحیت و مہارت کے چرچے ہر جگہ ہونے لگے۔ وہ جنگی منصوبہ بندی میں بڑا ماہر تھا اور غیر معمولی ذہین ، دور بین اور مستعد قائد تھا۔ ہسپانیہ(اندلس یا اسپین) میں حملہ آور ہونے سے پہلے طارق کو اس کی انتظامی قابلیت کی وجہ طنجہ کی والی مقرر کیا گیا تھا۔ مراقش (Moracco)کی فوج کا سپہ سالار بھی مقرر کر دیا گیا تھا۔
امیہ خلیفہ ولید بن عبد الملک کی جانب سے شہر قیروان میں موسیٰ بن نصیر غربی مقبوضات کا وائسرائے تھا جس نے ہسپانیہ(اندلس ) کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کا پس منظر عجیب تھا۔ اندلس پر مسلمانوں کے حملے کے چند محرکات تھے۔ مراقش (Moracco)کے شمال میں سبطہ نامی مقام عیسائیوں کے قبضہ میں تھا۔ یہاں کا قلعدار کونٹ جولین تھا۔ وہ قیصر قسطنطنیہ(استنبول) کی طرف سے مامور تھا۔ سبطہ اندلس سے قریب تھا۔ اندلس کے آخری گاتھ تا جدا روٹیزا کی بیٹی سے جولین کی شادی ہوئی تھی۔ وٹیزا کولرزیق (Rodderick) نے معزول کر دیا جس سے جولین کو سخت صدمہ ہوا۔ جولین کی بیٹی فلوریڈا اندلس کے شاہی محل میں پرورش پارہی تھی۔ اس لڑکی سے لرزیق کے ناجائز تعلقات سے جولین مزید غیض و غضب میں آیا۔ بمشکل اپنی بیٹی کو لرزیق کے شکنجہ سے چھڑالایا اور لرزیق کا تختہ الٹنے کی سازش میں مصروف ہو گیا۔ اس کے ساتھ کلیسا کا ایک پادری بھی شامل ہو گیا۔ دونوں قیروان پہنچے اور موسیٰ بن نصیر کو اکسانے لگے کہ اندلس پر فتح آسان ہے۔ اسلام کا بڑا احسان ہوگا اگر عوام کو لرزیق کے ظلم و ستم سے نجات دلوایا جائے۔ لرزیق کی حکومت رعایا کے لئے قہر الہی ہے۔ یہ بھی کہا کہ اگر فوج کشی کی جائے تو فتح نصرت یقینی ہے۔ موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے حملہ کی اجازت طلب کی۔ خلیفہ کی اجازت آگئی۔ طارق بن زیاد کو اندلس کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ آپسی رقابت قوموں کی قسمت کا فیصلہ کر دیتی ہے۔ تاریخ کا نقشہ بدل دیتی ہے لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا سنادیتی ہے۔
موسیٰ بن نصیر نے طارق کو روانہ کرنے سے پہلے دشمن کی طاقت اور دفاعی استحکامات کا جائزہ اور جنگی نوعیت کی معلومات حاصل کرنے جولین کے ہمراہ ایک سردار طارف کو پانچ آدمیوں کے ساتھ اندلس بھیجا۔ طارف یا طریف جنوبی اندلس میں جس مقام پر اترا اس کا نام بھی جزیرہ طریف (Tarif) پڑ گیا۔ یہاں سے اس نے جزائرہ خضراء پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔ اس مہم کی کامیابی کے بعد موسیٰ بن نصیر نے اپنے نائب طارق ابن زیاد کو سات ہزار کی فوج دے کر ہسپانیہ کی فتح کے لئے روانہ کیا۔ اس فوج میں بربریوں کی تعداد زیادہ تھی۔ اس مہم میں طارق نے جولین کے بحری جہاز بھی استعمال کئے جو اس نے ایک معاہدے کے تحت بھیجے تھے۔ یہ فوج اندلس کی جنوبی راس پر اتری۔ وہاں قریب ہی ایک پہاڑ تھا جہاں فوج نے ڈیرہ ڈالا۔ یہ پہاڑ بعد میں طارق کے نام پر جبل الطارق کہلایا گیا جس کو یوروپی زبانوں میں بگاڑ کر جبرالٹر (Gibralter) کہتے ہیں۔ طارق آگے بڑھا اور قلعہ قرطاجنہ پر قبضہ کر لیا۔ طارق نے جنگ کے لئے ایسی جگہ منتخب کی جو فوجی لحاظ سے اسلامی لشکر کے لئے محفوظ تھی۔ اسکے قریب پانی اور سامان رسد کی سہولتیں موجود تھیں ۔ یہ جگہ وادی رباط کے کنارے تھی جس کا دوسرا نام وادی بکر ہے اسلامی لشکر کے عقب میں ایک جھیل تھی جسے جھیل لا جنڈا (Lagenda) کہتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر طارق نے فوج کو ایک تاریخی خطبہ دیا۔ طارق اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اندلس کے ساحل پر اترتے ہی سب سے پہلا یہ کام کیا کہ جن جہازوں میں سوار ہو کر آئے تھے ان کو آگ لگا کر سمندروں میں غرق کر دیا۔ طارق کی یہ حرکت بہت ہی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس میں ایک عظیم حکمت مضمر تھی۔ سپہ سالاری کی یہ ایک زبردست دلیل تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی مٹھی بھر فوج ایک عظیم الشان سلطنت کی افواج گراں کے مقابلہ میں حقیر نظر آئے گی ممکن ہے بربری نو مسلموں کو گھر یاد آ ۔ آئے۔ دیگر فوجی سردار واپسی کی صلاح دیں۔ طارق نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں فتح و نصرت کی بشارت دی گئی تھی۔ وہ اندلس کی فتح یقینی سمجھ رہا تھا۔ اس نے جہازوں کو غرق کر کے سپاہیوں کو بتا دیا کہ واپسی کا سوال باقی نہ رہا۔ ہمارے پیچھے سمندر ہے اور آگے دشمن۔ اس دیار غیر میں دو ہی راستے ہیں ، موت یا فتح ،شہادت کا رتبہ یا غازی کا لقب۔ شجاعت سے ہمیشہ کی فضیلت اور شہادت سے جنت الفردوس ۔ پست ہمتی سے ہلاکت، جفاکشی سے حیات جاوید ۔ بڑی جنگ ہونے سے پہلے ہی طارق کے فوجی دستوں نے قرب وجوار کے قصبوں اور شہروں کو فتح کر لیا اور فوج کے لئے کافی رسد جمع کر لیا۔
ان علاقوں کا گورنرتد میر (Theodomir) تھا اس نے لرزیق کو اطلاع دی۔ لرزیق ایک زبردست فوج لانے سے قبل تدمیر نے طارق پر حملہ کر دیا۔ مگر طارق کے ہاتھوں شکست کھائی۔ تدمیرنے لرزیق کو لکھا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ حملہ آور لوگ کون ہیں ، کہاں سے آئے ہیں، آیا آسمان سے اترےہیں یا زمین سے نکل آئے ہیں۔ میں نے پوری ہمت سے کام لیا لیکن ناکامی ہوئی۔ یہ سن کر لرزیق ایک لاکھ کی فوج لے کر طلیطہ (Toledo) سے روانہ ہوا۔ تدمیر بھی شامل ہو گیا۔ پہلی جنگ جولائی711ء کو ایک چھوٹی سی ندی کے کنارے واقع ہوئی۔ موسیٰ بن نصیر نے آفریقہ سے پانچ ہزار کی فوج مزید تائید کےلئے روانہ کر دی تھی۔ ایک طرف بارہ ہزار مسلمان تھے اور دوسری طرف ایک لاکھ عیسائی، مسلمان ایک غیرملک کے حالات سے ناواقف تھے اور عیسائی اپنے وطن پر نازاں اور اس کی حفاظت میں مصروف اسلامی لشکر کا سردار ایک آزاد کردہ غلام اور عیسائی فوج کا سپہ سالار خود ہسپانیہ کا تاجدار جس کے قبضہ میںملک کے تمام خزانے۔ مسلم فوج میں نو مسلم بر بری، ادھر عقیدت مند عیسائی، ہمت و حوصلہ ابھار نےکیلئے کلیساکا سارا مذہبی حلقہ ۔ طارق کی مٹھی بھر فوج، ادھر لاکھوں کا جم غفیر نتیجہ یہ نکلا کہ لرزیق شکست کھا گیا۔ جنگ سے پہلے طارق نے ایک ولولہ انگیز تقریر کی۔ ایمان و اسلام کا وہ جوش ابھارا، ہمت واستقلال کی وہ تلقین کی کہ شوق شہادت نے الفت دنیا و فکر و فرزند و خانماں کو سینوں سے مٹادیا۔ عیسائی گھوڑوں پر سوار تھے اور اسلامی فوج سب پیدل تھی۔ جنگ شروع ہوئی تو یوں لگا کہ شیر بکریوں کےمندے میں گھس رہا ہے۔ اسلامی تلواروں کی بجلیاں چمکیں غنیم کی فوج خاک و خون میں ملتی نظر،آئی۔ لرزیق اپنی تمام تجربہ کاری ، مہارت و بہادری کے باوجود اپنی جان کو عزت سے زیادہ قیمتی سمجھ کرمیدان جنگ سے بھاگ نکلا۔ اسلامی لشکر کو فتح نصیب ہوئی ۔ یہ جنگ ایک نہیں آٹھ دن لڑی گئی۔ یہ جنگ اس اعتبار سے فیصلہ کن تھی کہ ہسپانوی فوج پھر کہیں بھی متحد ہو کر اسلامی لشکر کا مقابلہ نہ کرسکی۔
فاتح طارق کے لئے اب میدان صاف تھا۔ وہ آگے بڑھتا گیا۔ پہلے اندلس کے جنوبی و مغربی علاقے فتح کرتا رہا۔ اس جنگ کے بعد مسلمانوں کو گھوڑے ہاتھ آئے۔ جنوب کا حصہ فتح کرنے کے بعد طارق نے شمال کا رخ کیا۔ ان مہمات میں طارق کو بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا جس میں مائدہ سلیمان کا خصوصی ذکر آتا ہے۔ طارق نے قرطبہ کی جانب پیش قدمی کی۔ قرطبہ کا حاکم اندلس کے شاہیاندلس خاندان کا ایک شخص تھا۔ اس شہر کا قلعہ بہت مضبوط تھا۔ طارق نے شہر والوں کو پیغام بھیجا کہ حملہ سے پہلے شہر سپرد کر دو۔ انہوں نے انکار کیا شہر کا محاصرہ کیا گیا۔ یہاں سے طارق طلیطلہ روانہ ہوا جس کو وہ بڑی آسانی سے فتح کر لیا۔ شاہی خزانے میں شاہان گاتھ کے پچیس عدد تاج طارق کو ملے ۔ طلیطلہ سے وہ اندلس کے انتہائی شمالی صوبہ تک شہروں کو فتح کرتے چلا گیا۔ اس اثناء میں موسیٰ بن نصیر کو ترغیب دی کہ اندلس کے بقیہ حصوں کو بھی فتح کرلے۔ طلیطلہ میں موسیٰ اور طارق کی ملاقات ہوئی۔ موسیٰ نے حکم بھیجا تھا مزید فتوحات پر توجہ نہ دے۔ موسیٰ کی آمد کا انتظار کرے۔ موسیٰ کی خواہش تھی کہ فتوحات میں اپنا حصہ بھی رہے۔ طارق کو حکم عدولی کی سز اپر قید کر لیا گیا مدعایہ تھا کہ حاکم کے حکم کی تعمیل از حد ضروری ہے۔
اس تنبیہ کے بعد موسی و طارق میں مصالحت ہوگئی۔ موسیٰ نے طارق کو ایک زبردست فوج دے کر آگے بھیجا اور خود طارق کے پیچھے روانہ ہوا۔ موسیٰ کے بیٹے عبد العزیز نے جنوبی و مشرقی علاقوں کو فتح کر لیا اب اندلس پر تین طرف سے یلغار تھا۔ موسیٰ و طارق جس علاقے کو فتح کرتے وہاں عیسائیوں اور یہودیوں کو ان کی مذہبی آزادی اور روایات کا حق بحال رکھنے کا بھروسہ دیتے ۔ ان کے جان و مال کی حفاظت کا وعدہ کرتے۔ انہوں نے اسلامی لشکر کو ہدایت کی تھی کہ بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں کو ہر گز قتل نہ کیا جائے ۔ طارق و موسی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے فرانس تک پہنچ گئے۔ فرانس کا جنوبی علاقہ بھی فتح کر لیا۔ موسیٰ بن نصیر کا خیال تھا کہ وہ اٹلی آسٹریا وغیرہ فتح کرتے کرتے قسطنطنیہ تک پہنچ جائے گا۔ یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ خلیفہ ولید بن عبدالملک نے واپسی کا حکم دیا اور دمشق میں انہیں طلب فرمایا۔ خلیفہ کی کم نگاہی سے سارا یوروپ مسلمانوں کے ہاتھ آتے آتے رہ گیا۔

اسلام صرف ایک صدی میں کیسے تینوں براعظم ایشیا، افریقہ اور یوروپ تک پہونچ گیا

اسلام صرف ایک صدی میں کیسے تینوں براعظم ایشیا، افریقہ اور یوروپ تک پہونچ گیا
تاہم سارے اندلس پر مسلمانوں کا مکمل قبضہ ہو گیا۔ مغیث الرومی خلیفہ کا جو حکم لے آیا اس سے موسیٰ بن نصیر کی الوالعزمی مایوسی میں بدل گئی۔ خلیفہ ولید نے موسیٰ کو فتح یوروپ سے روک دیا۔ اس حکم پر موسی اندلس کی حکومت کو اپنے بیٹے عبدالعزیز کے سپرد کر کے دمشق(موجودہ شام کی دارالحکومت) روانہ ہو گیا۔ موسیٰ کے ساتھ اندلس کے خزانے ، طلائی ظروف ، زیورات ، جواہرات اور کثیر مال غنیمت بہت سے لونڈی غلام بھی تھے۔ موسیٰ دمشق پہنچ گیا۔ جب کہ خلیفہ ولید بستر مرگ پر تھا۔ سلیمان عبد الملک تخت نشین ہوا۔ موسیٰ نے خلیفہ وقت کی خدمت میں سب مال غنیمت پیش کیا۔ موسیٰ کے مخالفوں نے سازش کی۔ سلیمان کی نظر میں اس کو گرادیا۔ امر ءو وزراء کا حسد رنگ لانے لگا۔ سلیمان موسیٰ سے سختی سے پیش آنے لگا۔ خلیفہ نے اس کومعتوب بنا کر اس کا مال و اسباب ضبط کر لیا اور قید کر دیا۔ طارق اور مغیث الرومی کو بھی جو موسیٰ بن نصیر کے مشہور سردار اور فتح اندلس میں سب سے زیادہ کارہائے نمایاں انجام دئے تھے قید کر دیا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد طارق کو رہا کر دیا گیا۔ معمولی وظیفہ دے کر ملک شام کے کسی شہر میں قیام پذیر ہونے کی اجازت دیدی۔ موسیٰ کو بھی آزاد کر دیا گیا۔ جس قدر روپیہ اس سے وصول ہو سکتا تھا وصول کر کے وادی القری میں سکونت پذیر ہونے کا حکم دیا۔ موسیٰ اس ناکامی کے بعد دوسرے سال ہی فوت ہو گیا۔
غرض دمشق پہنچنے کے بعد طارق بن زیاد و موسی بن نصیر جیسے عظیم فاتح سپہ سالاروں کی عسکری زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ انجام کا ر ذلت سے وہ گمنامی میں اس سرائے فانی سے رخصت ہوئے۔ اگر طارق اور موسیٰ در بارد مشق کی غیر دانشمندانہ مداخلت سے آزاد رہتے تو نہ صرف اندلس کی تاریخ مختلف ہوتی بلکہ آج یوروپ اسلامی دنیا کا حصہ ہوتا۔ یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ سلیمان عبد الملک نے ان دونوں بہادر ملک گیر و فاتح سپہ سالاروں کی قدردانی نہیں کی، بلکہ ان پر عتاب برسایا۔ خلافت کو ملوکیت میں بدلنے کے جتنے مضر نتائج نکلے ان میں یہ بھی ایک ہے کہ خلیفہ وقت عیش یا طیش میں ایسے فیصلے نافذ کرتا جن پر امت مسلمہ صد صدیوں کف افسوس ملتی رہے بھی تو کم ہے۔ یزید نے حضرت امام حسین کو شہادت کا پیالہ نوش فرمانے پر مجبور کر کے عالم اسلام میں ایک فتنہ برپا کر دیا۔ خلیفہ سلیمان نے محمد بن قاسم کے ساتھ حق تلفی کر کے برصغیر ہند میں ابھرتی مملکت اسلامیہ پر کاری ضرب لگائی۔ بساوقات خلیفی و حکام دوراندیشی، بالغ نظر وفکر صحیح سے محروم ہو کر ایسے جذباتی کام کر جاتے تھے جس کا مداوا صدیوں میں بھی ممکن نہ تھا۔ طارق بن زیاد و موسیٰ بن نصیر کے ساتھ بھی جو سلوک کیا گیا وہ اسی زمرے میں آتا ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ہوگا کہ خلیفہ وقت کسی عظیم ہستی کی عزت کرے نہ کرے، تاریخ ہمیشہ ایسی جلیل القدر ہستیوں کے سر پر عظمت کا تاج رکھتی ہے۔ ان کی یاد کو سینوں میں بساتی ہے اور اہل خرد انہیں ہمیشہ داد دیتے رہیں گے اور کہیں گے۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر ے دریا و صحرا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیت سے رائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

عالم اسلام کے جواہر پارے (جلد دوم) مصنف:بی شیخ علی

اپنا تبصرہ بھیجیں