موسیٰ بن نصیر – فاتح اندلس کا عظیم سپہ سالار
موسی بن نصیر:
تاریخ عالم میں عربوں نے ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اقدار عالیہ کا ایسا تناسب رکھا کہ جہاںعقل بھی ہو فضل بھی ہو، ذہن کی روشنی بھی ہو ، قلب کی بصیرت بھی ہو، دنیا بھی ہو، جسم کی بھی پرورش ہو، روح کی تربیت بھی ہو، قانون فطرت بھی نافذ ہو اور قانون اخلاق بھی، تلوار بھی چمکے قلم کے کرشمے بھی ،تعمیر حیات بھی تسخیر کائنات بھی، تعمیر حیات کا کام متقی پرہیز گار لوگوں نے کیا اور تسخیر کائنات کا نام سپہ سالاروں نے ۔ خالد بن ولید جیسے جرار نے ابتدا کی اور طارق بن زیاد موسیٰ بن نصیر نے اس کام کو انتہا تک پہنچایا۔ تاریخ ہمیشہ ان کا نام ادب و احترام سے لے گی۔ جنہوں نے اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھے میدان کارزار میں کود پڑے۔ اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ ایک اعلیٰ مقصد کے لئے زندہ رہے اور اسی مقصد کے لئے اپنی جان دیدی۔ وہ ایمان کی حرارت سے سرشار تھے۔ قیادت سیادت میں یکتا تھے۔ شہادت کے شیدائی تھے۔ انہیں عظیم ہستیوں میں موسیٰ بن نصیر بھی شامل ہیں جنہوں نے طارق بن زیاد اور اپنے بیٹے عبد العزیز کے ساتھ مل کر اندلس فتح کیا۔ فرانس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اعلان کیا کہ اگر خلیفہ کا حکم ہو تو بجلی کی طرح کوندتے ہوئے اٹلی، جرمنی و آسٹریا کو پارکر کے قیصر روم کو قسطنطنیہ میں آواز دوں کہ ہمت ہو تو مقابلہ کے لئے آجاؤ ۔ یہ صرف شیخی نہیں تھی بلکہ اس شخص کا دعوی تھا جس نے مٹھی بھر فوج لے کر اندلس کی عظیم سلطنت پر قابض ہو گیا تھا۔ بد اندیش خلیفہ ولید بن عبد الملک میں وہ بالغ نظری نہیں تھی کہ اپنے سپہ سالار کی ہمت افزائی کرتا، نصرت و فتح مندی کا پرچم ہر جگہ لہراتا اور سارے یوروپ کو مشرف بہ اسلام بخشنے کی سعادت حاصل کرتا، ولید نے ایک ایسا زریں موقع کھو دیا جس کو تاریخ کبھی بھلا نہیں سکتی، لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی کا قول ولید پر صادق آتا ہے۔
موسی بن نصیر ۱۴۵ ء میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ امیر معاویہ کے زمانے میں شہر کو توال تھا۔ موسیٰ بڑا ذہین و ہو نہار تھا۔ جلد ہی اس کی قابلیت چمکنے لگی۔ خلیفہ عبدالملک نے بصرہ علاقے میں وصول مال گذاری کے حکام پر لگا دیا۔ اس کے بعد عربی آفریقہ کا گورنر مقرر کر دیا۔ یہ بہت اہم عہدہ تھا۔ یہ صوبہ مصر سے لے کر بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا تھا۔ اس صوبہ میں اس نے کافی اصلاحات نافذ کیں اور اپنی تنظیمی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ عسکری مہارت میں خوب شہرت پائی۔ شمالی آفریقہ کا کثیر حصہ فتح کیا۔ اندلس کی فتح بھی اس کی قسمت میں لکھی گئی تھی۔ قیروان اس کا پائے تخت تھا۔
جس طرح حجاج بن یوسف مشرقی ممالک کا سب سے بڑا وائسرائے تھا اسی طرح مغربی ممالک کا وائسرائے ولید بن عبدالملک کے عہد میں موسیٰ بن نصیر تھا۔ شمالی آفریقہ کے اس سب سے بڑے حاکم کے پاس اندلس کے بعض لوگ آئے اور اپنے بادشاہ لذریق ( روڈرک) کے ظلم وستم کی شکایت کر کے التجا کی کہ آپ اندلس پر چڑھائی کر کے مراقش کی طرح اس کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر لیں ۔ موسیٰ نے اہل اندلس کی اس درخواست پر چندروز غور کیا۔ اس کے بعد اپنے ایک غلام کو چار کشتیوں میں چار سو سپاہیوں کے ساتھ اندلس کی طرف روانہ کیا کہ وہاں کے حالات سے آگاہی حاصل ہو، اور دوسری طرف خلیفہ ولید سے بھی اندلس پر حملہ کرنے کی اجازت طلب کی ۔ خلیفہ نے چڑھائی کی اجازت عطا کر دی۔ وہ چار سو سپاہی بھی ضروری باتیں معلوم کر کے واپس آئے ۔ موسیٰ نے 710ء، میں اپنے دوسرے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کو سات ہزار کی فوج دے کر اندلس پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔
طارق بن زیاد اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اندلس کے ساحل پر اترتے ہی ایک عجیب حکم صادر کیا۔ جن جہازوں سے فوج اتری تھی ان کو جلا دیا گیا۔ اب فوج کے سامنے دو ہی راستے تھے۔ موت یا فتح ۔ طارق نے ایسا جذباتی خطبہ دیا کہ ہر سپاہی میں ایمان کا جذبہ ابھر آئے۔ زندہ وہ ہے جس میں ایمان ہے۔ جس میں نہیں وہ مردہ ہے۔ مردوں کو کاٹنا کیا محال ہے؟ ہر سپاہی کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ اگر غازیوں میں ایمان کی بو باقی رہے گی تو فتح یقینی ہے۔ چنانچہ یکے بعد دیگر طارق نے کئی جنگیں جیتیں ۔ گورنزتد میر کو پہلے شکست دیا ، پھر لرزیق جو ایک لاکھ کی فوج لے کر آیا تھا اس کو شکست دی۔
موسیٰ بن نصیر کو جب یہ خبر ملی لرزیق شکست کھا گیا ہے اور سارا اندلس فتح ہونے کے قریب ہے تو وہ خود اندلس جانے کے لئے تیار ہو گیا ۔ اٹھارہ ہزار کی فوج لے کر وہ پہنچ گیا۔ طلیطلہ میں موسیٰ اور طارق کی ملاقات ہوئی ۔ موسیٰ کچھ ناراض تھا کہ طارق نے حکم کے خلاف پیش قدمی کیوں کی۔ طارق نےمؤ دبانہ عرض کیا کہ ابھی بہت سے ضروری شہر و صوبے باقی ہیں۔ آپ مغرب کے راستے سے طلیطلہ تشریف لے جائیں اور راستے کے تمام شہروں کو فتح کرلیں ۔ موسیٰ بن نصیر نے اس رائے پر عمل کیا۔ تاہم تنبیہ کے طور پر حکم عدولی کی وجہ موسیٰ نے طارق کو چند دن قید بھی کر دیا تا کہ دوسرے سرداروں کو یہ معلوم ہو کہ عسکری معاملات میں حکم کی تعمیل از حد ضروری ہے۔ اس تنبیہ کے بعد موسیٰ نے طارق کو ایک زبردست فوج دے کر شمال کی طرف روانہ کیا اور خود طارق کے پیچھے روانہ ہوا۔ طارق و موسیٰ اندلس کے شمال اور مغرب شہروں کے فتح کرنے میں مصروف ہوئے اور موسیٰ بن نصیر کے بیٹے عبدالعزیز نے جنوبی و مشرقی علاقے کو فتح کرنا شروع کیا۔ تدمیر نے عبدالعزیز کا مقابلہ کرنا چاہا مگر شکست کھا کر پہاڑیوں میں چھپتا پھرا۔ طارق و موسیٰ نے بھی ہر ایک شہر سے نہایت آسان شرائط پر معاہدے کئے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ عیسائیوں کو مذہبی آزادی حاصل رہے گی۔ ان کے گر جاؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے تمام معاملات ان کی مذہبی کتابوں اور مذہبی عدالتوں کے ذریعہ طے ہوں گے۔ جو شخص مسلمان ہونا چاہے گا اس کو عیسائی نہیں روکیں گے۔ عیسائیوں کے جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی جائے گی۔ طارق و موسیٰ نے تمام شمالی و مغربی صوبے فتح کر لئے۔ اس کے بعد فرانس کا جنوبی حصہ فتح کرنے لگے ۔ موسیٰ بن نصیر نے ارادہ کیا کہ سال آئندہ فرانس کو فتح کر کے اٹلی آسٹر یا بالقان کو فتح کرتا ہوا قسطنطنیہ پہنچ جاؤں۔
موسیٰ بن نصیر نے اندلس میں وارد ہو کر کئی مقامات فتح کرنے کے بعد دار السلطنت طلیطہ پہنچ گیا۔ وہاں سے شمال کی جانب روانہ ہونے سے پہلے مغیث الرومی کو تحفہ و ہدیہ دے کر ملک اندلس فتح ہونے کی خبر خلیفہ ولید کو سنانے کے لئے بھیج دیا۔ مغیث الرومی دمشق سے اس وقت واپس آیا جبکہ صوبہ جلیقہ موسیٰ بن نصیر فتح کر چکا تھا اور ملک اندلس پر قبضہ مکمل کر کے یوروپ کے بقیہ ملکوں کو فتح کرنے کی تدابیر میں مصروف تھا۔ مغیث الرومی خلیفہ کے پاس سے موسیٰ کے نام جو حکم لے کر آیا اس سے موسیٰ بن نصیر کی ہمت ٹوٹ گئی۔ خلیفہ نے موسیٰ کو فتح یوروپ سے روک دیا۔ فورا دمشق واپس آنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس حکم کو سنتے ہی موسی اندلس کی حکومت اپنے بیٹے عبدالعزیز کے سپرد کر کے مغیث کو ہمراہ لے کر دمشق کی جانب روانہ ہو گیا۔ ساتھ ہی اندلس کے خزانے ، طلائی ظروف ، زیورات اور بے حساب مال غنیمت ، لونڈی غلام بھی ساتھ لیتا گیا۔ موسیٰ پہلے قیروان پہنچا اور پھر دمشق ۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ خلیفہ بستر مرگ پر تھا۔ ولید بن عبد الملک کے بعد اس کا بھائی سلیمان عبدالملک خلیفہ ہونے والا تھا۔ سلیمان نے موسیٰ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم ابھی دارالخلافہ میں قدم مت رکھو۔ مدعا یہ تھا کہ مال غنیمت ولید کی رحلت کے بعد سلیمان کے ہاتھ آئے ۔ ولید فوت ہونے والا ہی ہے۔ میری تخت نشینی کی ابتداء شاندا سمجھی جائے۔ اس خواہش کو پورا کرنا موسی کے لئے کچھ مشکل نہیں تھا۔ مگر موسیٰ نے اس پیغام پر توجہ نہیں دی۔ دمشق میں داخل ہو گیا۔ خلیفہ ولید کی خدمت میں جو سخت بیمار تھا حاضر ہوا بیماری کی حالت میں ہیرے جواہرات و مال غنیمت دیکھ کر ولید کچھ خوش نہ ہوا۔ موت سر پر منڈلارہی تھی۔ موسیٰ اپنے توقعات میں کامیاب نہ ہوا امراء دوزراء نے نئے خلیفہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سلیمان کے کان بھرنے لگے۔ موسیٰ کے مخالفوں اور حاسدوں کو ایک موقع ملا کہ موسیٰ کی ایک ایک غلطی بڑھا چڑھا کر سلیمان کے غیض و غضب کو بھڑکائیں۔
موسیٰ بن نصیر کا انجام :
ولید فوت ہو گیا اور سلیمان عبدالملک تخت نشین ہوا۔ موسیٰ کے ساتھ سختی سے محاسبہ شروع کیا۔ ممالک مغربیہ کے خراج کا حساب مانگنے لگا۔ موسیٰ کی کچھ قدردانی نہ کی۔ الٹا الزامات سر پر تھوپ دئے گئے ۔ خلیفہ نے اس کو معتوب بنا کر اس کا مال و اسباب ضبط کر لیا۔ دولاکھ اشرفیاں اس کے ذمہ بتا کر خیانت کی تہمت پر موسیٰ کو قید کر دیا۔ نہ موسیٰ کی توقیر کی گئی نہ طارق کی اور نہ مغیث کی جنہوں نے تاریخ ساز کارنامے انجام دئے تھے۔ سلیمان نے موسیٰ پر اس قدر بھاری تاوان عائد کیا جو موسیٰ نہیں دے سکتا تھا۔ موسیٰ کو تاوان ادا کرنے کے لئے عرب سرداروں سے بھیک مانگنی پڑی، اپنی آبرو بر باد کرنی پڑی، اس کی تمام ناموری، عزت و شہرت خاک میں مل گئی۔ موسیٰ اس ناکامی و نامرادی کے عالم میں فوت ہوا۔
مشہور مفکر و مورخ ابن خلدون نے خلیفہ سلیمان کے سلوک کو بے جا قرار نہیں دیا ہے۔ خلدون کا بیان ہے کہ جب موسیٰ سلیمان کی خدمت میں حاضر ہوا تو موسیٰ کے اس ارادے پر اظہار نا راضی کیا کہ وہ یوروپ کے ملکوں کو فتح کرتا ہوا قسطنطنیہ پہنچنا چاہتا تھا۔ یہ ارادہ خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اندلس کی حالت یوروپ کے دیگر ممالک میں نہیں تھی۔ مسلمانوں کو خواہ مخواہ ہلاکت و خطرہ میں ڈالنے کا منصوبہ تھا۔ خلیفہ ولید نے یہی خبر سن کر موسیٰ کو دمشق واپس ہونے کا حکم دیا تھا۔ اسلامی لشکر جو دس بیس ہزار سے زیادہ نہیں تھا ایسے عظیم مہم کے لئے نا کافی تھا۔ تھکی ماندی فوج تازہ دم یوروپی افواج کے سامنے ممکن ہے ٹہرنہ سکتی۔ خدانخواستہ شکست ہو تو فتح کردہ اندلس بھی خطرہ میں آجاتا۔ ان باتوں کا علم ممکن ہے فاتح موسیٰ کے ذہن میں نہ آیا ہو۔ ابن خلدون کا خیال ہے کہ کسی شخص کی حد درجہ مقبولیت مساوات میں مانع ہو سکتی ہے۔ فتح و نصرت مالک کا انعام ہے فرد کا تحفہ نہیں چاہے وہ کتناہی بہادر ہو۔ فرد کی شہرت مرضی مولا سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ ضرورت سے زیادہ کسی ایک پر فریفتہ ہونا حقیت نفس امری کے خلاف ہے۔ اس لحاظ سے ابن خلدون کی نظر میں خلیفہ سلیمان کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا۔ حضرت عمر نے اس وجہ حضرت خالد بن ولید کو معزول کیا تھا۔
مفکر ابن خلدون کے خیال کو غلط نہیں کہتے ہوئے بھی یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ امیہ خلیفوں کی سوچ اور خلافت راشدہ کے عہد کی سوچ میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ حضرت عمر اور خلیفہ سلیمان عبد الملک میں کوئی مناسبت نہیں ۔ خالد بن ولید اور موسیٰ بن نصیر کا مواز نہ ٹھیک نہیں ۔ خالد بن ولید کی معزولی کے اسباب بالکل دوسرے تھے۔ یہاں سلیمان کی ذاتی انا، خود غرضی او ر امر اوز راء کی علانیہ سازش صاف ظاہر ہے۔ سلیمان نے پیغام بھیجا تھا کہ خلیفہ ولید کی وفات تک موسیٰ دمشق میں داخل نہ ہو۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی تخت کے وقت اندلس کی فتح کا خوب چرچا ہو اور اس کا محرک سلیمان سمجھا جائے موسیٰ نے سلیمان کی یہ خواہش پوری نہیں کی۔ جس سے وہ چراغ پا ہو گیا۔ ولید کے بقید حیات ہی دمشق میں داخل ہو گیا اور سارا مال غنیمت ولید کو پیش کر دیا۔ حاسدوں کو کان بھرنے کا موقع دیدیا۔ یہاں سلیمان کی خود غرضی صاف عیاں ہے۔
رہا ابن خلدوں کا یہ خیال کہ یوروپ کی مہم خطرہ سے خالی نہیں تھی۔ دور دراز ملک میں وقت پر رسد ملے نہ ملے۔ مزید فوجی مدد ملے نہ ملے تو میدان کا کیا نقشہ بن سکتا تھا کوئی نہ کہہ سکتا تھا۔ یہاں بھی ایک بات یاد رکھنی ہوگی کہ جب سترہ سال کا ایک لڑکا محمد بن قاسم مٹھی بھر فوج لے کر سندھ فتح کر سکتا ہے تو ایک ماہر عسکریت تجربہ کار، بہادر سپہ سالار موسیٰ جو سارے اندلس پر قبضہ جما چکا تھا۔ ہمت و حوصلہ سےکیسے آگے بڑھ نہ سکتا تھا؟ وہ فرانس میں بھی داخل ہو چکا تھا اور اس کے کئی جنوبی حصے فتح کر لیا تھا۔
یوروپ کا سارا اندازہ وہ تاڑ گیا تھا۔ اس کو امید قوی تھی کہ اس کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس لئے واپسی کا حکم دے کر خلیفوں نے ایک زریں موقع کھو دیا۔ یہ موسیٰ کی بڑائی تھی کہ خلیفہ کے حکم کی بے عدولی نہیں کی۔ اپنے تمام منصوبوں کو بالائے طاق رکھ کر شہرت و عظمت کے لمحوں میں ذلت کی صعوبت سہا، فرمانبرداری واطاعت کے جو ہر کو نہ کھویا۔ یہی اقدار تھے جن کی وجہ اسلام اس زمانے میں آفتاب کی طرح چمکا۔ موسیٰ نے شیوہ تسلیم ورضا اختیار کیا اور کہا۔
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم اب ہو ئے خاک انتہا یہ ہے
تاریخ اسلام کے جواہر پارے: جلد دوم، مصنف: پروفیسر بی شیخ علی
کمپیوٹر کورس اردو میں