ہندوستان میں اسلام کی آمدـمحمد بن قاسم
محمد بن قاسم
قدرت کا قانون ہے کہ جب نور حق کا آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اس کی تجلی ایک عالم کو منور کر دیتی ہے۔ اسی طرح جب ظلمت کا دور آتا ہے تو بجلی کی سرعت سے تاریکی پھیل جاتی ہے۔ آفتاب رسالت کا کرشمہ تھا کہ سرزمین عرب سے ہدایت کی جو شعائیں ابھریں ان سے جلد ہی ساری دنیا جگمگا اٹھی ۔ کرۂ ارض کے چپہ چپہ تک اس روشنی کو پھیلانے کا کام خالد بن ولید نے بھی کیا، سعد بن ابی وقاص نے بھی کیا، طارق بن زیاد نے بھی کیا اور موسیٰ بن نصیر نے بھی کیا۔ انہیں مردان کار زار کی مبارک فہرست میں محمد بن قاسم کا نام نامی بھی درج ہے۔ اگر یہ سپہ سالاران اعظم اپنی بہادری کے جو ہر نہ دکھاتے تو اسلام ہسپانیہ سے سندھ تک کیسے پھیل جاتا؟ اگر خالد بن ولید نے عراق و شام فتح کیا ، سعد بن ابی وقاص نے ایران فتح کیا ، طارق بن زیاد و موسیٰ بن نصیر نے اندلس فتح کیا، تو ایک سترہ سال کے لڑکے محمد بن قاسم کی قسمت میں لکھا گیا تھا کہ برصغیر ہند پر بھی توحید کاڈ نکا بجائے۔ چنانچہ تین سال کی قلیل مدت میں اس لڑکے نے وہ سحر انگیز کام کر دکھایا جو کسی رستم زماں کے بس کی بات نہیں تھی۔ جب یہ غازی جنہیں حق نے ذوق خدائی بخشا تھا، اپنے خون کا آخری قطرہ میدان جنگ میں بہار ہے تھے، نفس پرست خلیفوں کو دمشق میں کچھ اور ہی سوجھی۔ وہی امیہ خلیفہ سلیمان عبد الملک جس نے موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد پر عتاب برسایا تھا محمد بن قاسم پر بھی ظلم وستم کے کوڑے لگائے قید کیا اور قتل کر دیا۔ موسیٰ بن نصیر کا عزم تھا، اعلان تھا کہ اگر اجازت دی جائے تو اندلس سے فرانس، اٹلی، جرمنی ، آسٹر یا فتح کرتے ہوئے قسطنطنیہ کا دروازہ کھٹکھٹا دوں ۔ جس جوش و ولولہ سے وہ اٹھا تھا اور جس پھرتی سے اس نے اندلس فتح کیا تھا اور یوروپ کی جو حالت اس وقت تھی اس کے مد نظر موسیٰ کا دعوی بے بنیاد نہ تھا مگر بداندیش خلیفہ ولید بن عبد الملک نے حکم دیا کہ مال غنیمت لے کر فورا دمشق پہنچ جاؤ۔ عیسائیوں کی خوش قسمتی کہ ولید پر شیطان غالب آگیا۔ اس طرح ہندوستان کے دیگر مذاہب کی خوش قسمتی کہ خلیفہ سلیمان عبد الملک پر بھی شیطان غالب آگیا اور مکر وفن کے وہ کام کر گیا جن سے یوروپ بھی ہاتھ سے گیا اور برصغیر ہند بھی۔ یہ سب اسی ایک غلطی کا پھل تھا کہ اقتدار کے بھوکے لوگوں نے خلافت کو ملوکیت میں بدل دیا تھا۔
زمانہ دراز سے ہندوستان سے عربوں کے تجارتی تعلقات تھے۔ بحری راستوں سے ہندوستان کا مال بیرونی ممالک کو عربوں کے جہازوں میں ہی جانا تھا ۔ ہندوستان کے مغربی ساحل پر کئی عرب تاجر قیام پذیر بھی تھے اور ہندوستانیوں سے ان کے تعلقات بہت خوشگوار تھے۔ ظہور اسلام کے بعد ان کی آمد مزید بڑھ گئی۔ اب تجارت کے علاوہ تبلیغ میں بھی لگ گئے ۔ ساحل مالا بار پر ان کا رسوخ بڑھتا گیا۔ حضرت عمر کے زمانے میں ۶۳۶ء میں مسلمانوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا۔ تعلقات صرف تجارتی ، ثقافتی و تہذیبی ہی تھے۔ سیاسی و عسکری رجحان نہیں تھا۔ حضرت عمر کی توجہ عراق، ایران اور شام پر ہی تھی۔ عراق کے گورنر حجاج بن یوسف (۶۹۴ء سے ۷۱۴ء) نے سوچا کہ مملکت اسلامیہ کی توسیع کی جائے ۔ سندھ پر حملے کے چند وجوہات تھے۔
راجہ داہر سندھ کا حکمران تھا۔ سندھ کی ریاست ملتان، بھاول پور اور بلوچستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ گجرات اور مارواڑ کے علاقے بھی اس میں شامل تھے۔ داہر کے لوگوں نے عربوں کے جہازوں کو لوٹا اور ان کی تجارت میں خلل اندازی ڈالنی شروع کر دی۔ بحری قزاقوں کے حملے پہلے سے جاری تھے۔ ۶۳۶ء میں بحرین کا گورنر ان کے روک تھام کے لئے ایک بحری بیڑہ بھیجا تھا۔ حجاج نے فیصلہ کیا کہ سندھ پر حملے کیا جائے۔
اس حملہ کے لئے ایک سترہ سال کے نوجوان محمد بن قاسم کا انتخاب کیا گیا وہ حجاج بن یوسف کا بہن زادہ بھی تھا اور داماد بھی۔ بری راستہ شیراز سے ہوتے ہوئے ایک زبردست فوج لے کر وہ آگے بڑھا۔ حجاج نے بحری راستہ سے بھی محمد بن قاسم کی تائید کے لئے ایک چھوٹا سا دستہ پانچ سو آدمیوں کا روانہ کیا۔ موجودہ کراچی کے قریب دیبل نامی ایک مقام پر بری و بحری فوج جمع ہوئی۔ جنگ کا آغاز ہوا۔ راجہ داہر کی طرف سے سخت مدافعت ہوئی۔ دیبل کا مضبوط قلعہ تھا۔ محمد بن قاسم کے حملہ کی تاب نہ لا سکا۔ ہتھیار ڈال دئے گئے۔ قلعہ فتح ہوا ۔ ۷۱۲ء کے شروع میں موجودہ حیدر آباد کے قریب ایک اور مقام نیرون بھی فتح کر لیا گیا۔ فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ تجارت کا ایک اہم مرکز شیوان بھی ہاتھ آیا۔جاٹ لوگوں نے بہادری کے خوب جو ہر دکھائے۔ مگر میدان جیت نہ سکے۔ راجہ داہر بھی مقابلہ کے لئے سامنے نہیں آیا تھا۔ ایک بڑا لشکر لئے برہمن آباد کے پاس جو حیدر آباد کے شمال میں تھا، منتظر تھا۔ جون ۷۱۲ء میں یہاں گھمسان کی لڑائی ہوئی ۔ داہر کو شکست ہوئی اور وہ مارا گیا برہمن آباد فتح ہوا۔ سندھ کا سارا جنوبی حصہ محمد بن قاسم کے قبضہ میں آگیا۔ پھر شمال کا رخ کیا۔ داہر کا پائے تخت ارور تھا جو اس وقت راجہ کے بیٹے کے قبضہ میں تھا۔ یہ مقام بھی فتح کیا گیا۔ ایک سال کے اندر سندھ فتح کر لیا گیا۔ محمد بن قاسم ملتان طرف بڑھا اور اس کو بھی لے لیا۔
کافی مال غنیمت ہاتھ آیا جس کا پانچواں حصہ خلیفہ کی خدمت میں بھیجا گیا اور بقیہ سپاہیوں میں تقسیم کیا گیا۔ جنگ کے خاتم پر ملکی انتظامات کی طرف توجہ دی گئی۔ عربوں نے عمدہ انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ رعایا کے ساتھ بالکل رواداری کا سلوک کیا۔ تین سال کے اندر ملک کا نقشہ بدل دیا۔ یہ ثابت کیا کہ عربوں کا مقصد ملک گیری نہیں۔ بہتر نظام حکومت ہے۔ پنچ نامہ جو تاریخی تذکرہ ہے محمد بن قاسم کے اصلاحات سے بھرا پڑا ہے۔ ملک میں امن وامان کا اعلان کیا گیا۔ جان و مال کی حفاظت کی ضمانت دی گئی۔ ہندوستانیوں کو ذمیوں کا درجہ دیا گیا۔ ان کی عبادت گا ہیں مقدس مانی گئیں۔ صرف ایک ہلکا سا جز یہ تھو پا گیا تھا۔ یہ بھی بچوں بوڑھوں اور بیماروں پر معاف تھا۔ بہت ہی مالدار طبقہ کے لئے سالان ۴۸ در ہم در میانی طبقہ کے لئے ۲۴ درہم اور نچلے طبقہ کے لئے ۱۲ درہم مقرر کیا گیا۔ زمینداری سے خراج ان کی آمدنی کے اندازوں کے مطابق لیا جاتا تھا۔ کاشتکاروں، کاریگروں اور تاجروں کی آبادی کا شمار (Census) کیا گیا۔ لگان کی اصولی کے لئے دیہات کے آدمیوں کا انتخاب کیا گیا اور ان کی تنخواہ مقرر کر دی گئی۔ برہمنوں کی توقیر میں فرق آنے نہ دیا گیا۔ یعنے رسم ورواج برقرار رکھے گئے۔ سماجی زندگی پر اسلامی اصول نافذ نہیں کئے گئے ۔ جزیہ کی ادائیگی پر ان کی معاشی، سماجی، تہذیبی و دینی حالت میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کی گئی۔ حجاج کا تحریری حکم آیا کہ ذمیوں کے پورے حقوق انہیں دئے جائیں۔ ان کے مندروں میں پوجا پاٹ کی کھلی اجازت دی جائے۔ نئے مندروں کی تعمیر کا حق بھی انہیں دیا جائے۔ برہمنوں کو پہلے کی طرح اپنے مراعات محفوظ رکھنے کا حق ہوگا۔
یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہندوستان میں عربوں کی پالیسی یکدم بدل گئی۔ تبلیغ کا نام و نشان نہ رہا۔بالکل سیکولر پالیسی نظر آنے لگی۔ مندروں کی حفاظت، مذہبی آزادی شہری حقوق ، روایات کی بحالی ، کاشتکاروں اور کاریگروں کی ہمت افزائی وغیرہ سے یوں لگتا تھا کہ نو جوان محمد بن قاسم ایک ذی ہوش، دور اندیش مد بر حکمران ہے۔ تین سال کے اندر اس نے ہندوستان کا سارا مغربی علاقہ مکمل طریقہ سے فتح کر لیا۔ فتح سے بڑھ کر جس طرح اس نے دلوں کو مسخر کیا وہ قابل داد ہے۔ اس کی قلیل فوج ، دور دراز کا معاملہ جہاں ضرورت پر فوری تائید ممکن نہیں تھی اور دشمنوں کی کثرت کے مد نظر یہ ایک حیرت انگیز فتح تھی۔ اس کے لئے عسکری صلاحیت سے بڑھ کر تنظیمی صلاحیت کی سخت ضرورت تھی جس کا اس نے بہترین مظاہرہ کیا ۔ ۷۱۴ء میں حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا اس کے بعد ۷۱۵ء میں خلیفہ ولید عبدالملک کا بھی انتقال ہو گیا خلیفہ سلیمان عبد الملک نے محمد بن قاسم کو واپسی کا حکم دے دیا۔
محمد بن قاسم کا انجام :
سلیمان بن عبد الملک پر یہ سخت الزام لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے محمد بن قاسم کو سندھ سے واپسی کا حکم صادر کر کے عالم اسلام پر بڑا ظلم کیا۔ ایک ہونہار سپہ سالار کی عسکری زندگی ختم کر دی۔ بر صغیر ہند میں اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روک دی۔ ایک نئے ملک میں عربوں کی نئی تنظیمی صلاحیت و تجربوں کو نابود کر دیا ۔ اس کا اہم سبب یہ تھا کہ امیہ خلیفے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کی سخت پالیسی سے ناخوش تھے اور اس کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ حجاج سے عداوت و دشمنی تھی۔ اس کا اثر اس کے داماد پر پڑا۔ اس دشمنی کو حجاج کے رشتہ داروں تک بلا وجہ وسیع نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن سلیمان محمد بن قاسم کو بھی اسی طرح گردن زدنی کا مرتکب سمجھتا تھا جس طرح اس نے حجاج کو سمجھ رکھا تھا۔محمد بن قاسم نہایت سمجھدار، بہادر، مستقل مزاج و نیک طینت، صالح نو جوان تھا۔ اس نے ایک طرف سندھ کی فتوحات میں کمال ہی کر دکھایا اور دوسری طرف رعایا سے سلوک میں ایسی ہر دلعزیزی کا مظاہرہ کیا کہ ہر طرف عربوں کی برتری کا سکہ بیٹھ گیا۔ اس نوجوان فتح مند سردار نے خلیفہ کے خلاف کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی۔
محمد بن قاسم حجاج کی وفات کے بعد بھی فتوحات و ملک داری میں اسی طرح مصروف رہا جیسا کہ حجاج کی زندگی میں۔ ملک کا ایک ہی صوبہ فتح ہوا تھا۔ آگے بڑھنے کی کافی گنجائش تھی۔ فوج اسکودل وجان سے چاہتی تھی ، مزید فتوحات کے لئے مضطرب تھی، فتح شدہ علاقوں میں ملکی انتظام ٹھیک طرح چل رہا تھا۔ ایسے وقت پر جبکہ قابل سپہ سالار کی مزید ہمت افزائی کی ضرورت تھی اسکی معزولی کے احکامات سیاسی خودکشی سے کچھ کم نہ تھے۔ ایسے ہی حرکات سے امیہ خلافت اندرونی سازشوں کا شکار بن گئی ، اور اس کے حریف بنو عباسیہ نے جلد ہی اس کے اقتدار کا تختہ الٹ دیا۔ خلیفہ سلیمان نے جذبہ عداوت سے مغلوب ہو کر یزید بن ابی کثیہ کو سندھ کا والی بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے بھیج دو۔ سلیمان کا یہ حکم حد درجہ نامناسب تھا۔ ایک مقبول عام سپہ سالار اور حاکم کی بے قصور گرفتاری ظلم وستم سے کم نہیں تھی ۔ ایک فاتح فوج کو بد دل کرنے کا اعلان تھا۔ عاقبت نا اندیشی تھی کہ خلیفہ وقت اپنے قابل ماتحتوں و سرداروں کے ناقابل فراموش کارناموں کا صلہ بجائے تحسین وعزت افزائی کے قیدو گرفتاری سے دئے۔
یزید بن ابی کثیہ سندھ میں آکر قوت کے ذریعہ محمد بن قاسم کو گرفتار نہیں کر سکتا تھا۔ جب محمد بن قاسم کے ہمراہیوں کو یہ خبرملی کہ دمشق سے ان کے سردار کی گرفتاری کا حکم آیا ہے تو انہوں نے محمد بن قاسم سے کہا کہ تم ہر گز اس حکم کی تعمیل نہ کرو۔ ہم تم کو اپنا امیر بناتے ہیں اور تمہارے ہاتھ پر طاعت کی بیعت کرتے ہیں خلیفہ سلیمان کا ہاتھ ہرگز آپ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ حقیقت بھی یہ تھی کہ جو وہ کہہ رہے تھے سچ تھا۔ سلیمان اپنی خلافت کا پور ازور بھی لگا تا تو محمد بن قاسم کو مغلوب کرنا مشکل تھا۔ وہ اس قدر ہر دلعزیز بن گیا تھا کہ سندھ ریگستان کا ہر ذرہ اس کی امداد کے لئے کوشاں ہوتا۔ مگر اس صالح نوجوان نے بلا توقف اپنے آپ کو ابن ابی کیشہ کے حوالے کر دیا اور کہا کہ خلیفہ وقت کے حکم کی نافرمانی کا جرم مجھ سے نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ محمد بن قاسم کو گرفتار کرنے کے بعد ابن ابی کیثہ نے اس کو دمشق روانہ کر دیا۔ وہاں سلیمان کے حکم سے وہ واسط کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا اور صالح بن عبد الرحمن کو اس پر مسلط کر دیا جس نے محمد بن قاسم کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچا کر آخر کار رقتل کر دیا۔
تاریخ اسلام میں جہاں ہزار ہا ناز کی باتیں ہیں وہاں ایسی دکھ بھری کہانیاں بھی ہیں، جن سے آنکھ خون کے آنسو بہاتی ہے۔ سلیمان بن عبد الملک نے موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد پر جو ظلم ڈھایا اس سے بدر جہا بڑھ کر محمد بن قاسم کے حصہ میں آیا۔ ہندوستان میں پھر عربوں کا نام نہ رہا لیکن تین سال کی قلیل مدت میں محمد بن قاسم نے وہ کارہائے نمایاں کر دکھایا کہ سندھ کا حملہ تاریخ اسلام کا ایک سنہرا باب بن گیا۔ میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ میدان ملک گیری میں بھی اس نے اپنی قابلیت کے وہ جوہر دکھائے جو عظیم الشان بہادروں و مدبروں کی قسمت میں نہیں لکھا گیا تھا۔ اس کے جو ہر اس لئے بھی قابل ستائش ہیں کہ وہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا۔ اس کے اخلاق کی رفعت اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ بے چوں و چرا اس نے اپنے خلیفہ کے حکم کی اطاعت کی۔ جاتے جاتے محمد بن قاسم امت مسلمہ کو یہ سبق دے گیا کہ زندگی کو زرہ بکتر و احتشام کی ضرورت نہیں۔ شیوہ تسلیم و رضا ضروری ہے۔ مومن وہ ہے جو شاہین کی طرح زندگی بسر کرے اور شریفوں کی طرح جان دیدے۔
عالم اسلام کے جواہر پارے (مصنف:پروفیسر بی شیخ علی)