شخصیت میں تبدیلی کیسے آئے ہم دوسروں کو پہچان لیتے ہیں، مگر خود کو کیوں نہیں؟

ہم دوسروں کو سمجھ لیتے ہیں، خود کو کیوں نہیں؟

ہم دوسروں کو تو سمجھ لیتے ہیں… خود کو کیوں نہیں؟
انسان کی سب سے بڑی مہارت شاید یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو پڑھ لیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو پڑھنے سے ہمیشہ بچ نکلتا ہے۔ ہم دوسروں کی غلطیاں صاف دیکھ لیتے ہیں، لیکن اپنی خامیوں پر ایسی دبیز تہیں چڑھا رکھتے ہیں کہ آئینہ بھی دکھانے کی کوشش کرے تو ہم ناراض ہو جاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتا، مگر اپنے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ہزار بہانے ڈھونڈ لیتا ہے۔ جیسے ہم سب کے اندر دو الگ انسان رہتے ہیں ایک وہ جو دوسروں کو نصیحت کرتا ہے،اور دوسرا وہ جو خود نصیحت سنتے ہی بہرا ہو جاتا ہے۔
کبھی غور کیا آپ نے کہ ہم اپنے آپ سے لڑنے سے زیادہ دوسروں سے لڑنے کو آسان سمجھتے ہیں؟ وجہ سادہ ہے:خود کو بدلنا مشکل ہے،اور دوسروں کو الزام دینا آسان۔ہم نفسیاتی طور پر “آسان راستے” کی تلاش میں رہتے ہیں۔اپنی کمزوریوں پر کام کرنے کے بجائے ماحول کو ذمہ دار ٹھہرانا،اپنی غلطی ماننے کے بجائے دوسروں کے رویے کو دلیل بنانا،اور اپنی ناکامی کے بجائے قسمت کو کٹہرے میں کھڑا کر دینا یہ سب وہ راستے ہیں جو ہمیں وقتی سکون تو دیتے ہیں، مگر زندگی میں آگے نہیں بڑھنے دیتے۔
ہر انسان کے اندر ایک “اندھی جگہ” ہوتی ہے، جسے وہ خود نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن یہی وہ جگہ ہے جہاں اصل کام کرنا ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ دنیا کو سمجھ لینا کوئی کمال نہیں؛ اصل کمال خود کو سمجھ لینا ہے۔اپنی کمزوری کو پہچان لینا نصف کامیابی ہے اور اپنی ترجیحات کو ترتیب دینا زندگی کی سب سے بڑی حکمت۔لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ہم خود سے سوال کرنے کے بجائے دوسروں سے جواب مانگتے پھرتے ہیں۔ہم اپنے اندر جھانکنے کے بجائے دوسروں کے دلوں کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم اپنی ذات کی درستی چھوڑ کر دنیا کی خرابیوں پر لمبے مباحثے کرتے ہیں۔ہم بھول جاتے ہیں کہ تبدیلی ہمیشہ اندر سے شروع ہوتی ہے، باہر سے نہیں۔
اگر انسان اپنے دل کے دروازے پر بیٹھے “خود احتسابی” نامی چوکیدار کو بیدار رکھے تو زندگی آسان ہو جائےگی۔ لیکن جب یہ چوکیدار سو جاتا ہے تو خواہشیں قابض ہو جاتی ہیں،” انا” دروازہ بند کر دیتی ہے، اور پھر انسان پوری دنیا میں گھوم کر بھی اپنے آپ سے نہیں مل پاتا۔شاید اصل خوشی بھی اسی میں ہے کہ ہم دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو سمجھنا سیکھ لیں۔کیونکہ جو شخص اپنے آپ سے صلح کر لیتا ہے، دنیا اس سے خود بخود محبت کرنے لگتی ہے۔

Go to Home Page

https://guftar.in

اپنا تبصرہ بھیجیں