جب علم انسان سے نکل کر مشین کے پاس چلا جائے
جب علم انسان سے نکل کر مشین کے پاس چلا جائے(علمی اتھارٹی کے بدلتے ہوئے مراکز پر ایک فکری و تہذیبی مطالعہ)تمہید: ایک خاموش مگرمزید پڑھیں
جب علم انسان سے نکل کر مشین کے پاس چلا جائے(علمی اتھارٹی کے بدلتے ہوئے مراکز پر ایک فکری و تہذیبی مطالعہ)تمہید: ایک خاموش مگرمزید پڑھیں
ڈیجیٹل ومصنوعی ذہانت( AI )کےدور میں اسلامی علوم کی اشاعتڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (AI) کے موجودہ دور میں علم کے حصول اور فکری رہنمائی کےمزید پڑھیں
اسکرول کرتے کرتے ہم خود کہاں کھو گئے؟ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ ہم سوشل میڈیا پر کیوں جاتے ہیں۔ کوئی مقصد نہیںمزید پڑھیں
ہم خود کو پیچھے کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟زندگی بدلنے کا اہم سبق(خصوصی مضمون برائے گفتار)نوجوانی وہ عمر ہے جہاں خواب سب سے زیادہ چمکتے ہیں،مزید پڑھیں
ہم دوسروں کو تو سمجھ لیتے ہیں… خود کو کیوں نہیں؟انسان کی سب سے بڑی مہارت شاید یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو پڑھ لیتامزید پڑھیں
اندھیری رات کا مہمانچوتھی قسط:باب العلم کے پارنعمان کے سامنے وہ پراسرار دروازہ کھڑا تھا نہ لکڑی کا، نہ پتھر کا، بلکہ جیسے کسی دھندمزید پڑھیں
تیسری قسط:گمشدہ راستےصبح کے پہلے پہر نعمان کی آنکھ کھلی تو وہ بابا سلیم کی جھونپڑی میں ہی موجود تھا۔ لیکن عجیب بات یہ تھی…نہمزید پڑھیں
اندھیری رات کا مہمانطارق انور ندوی:دوسری قسط:کتاب کا راز۔نعمان کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ دیا بجھ چکا تھا، اور بابا سلیم کی آواز اب نہیںمزید پڑھیں
اندھیری رات کا مہمانطارق انور ندوی:پہلی قسط:ایک سنسان گاؤں کی ایک پرانی جھونپڑی میں، ایک بوڑھا شخص اکیلا رہتا تھا۔ لوگ اسے “بابا سلیم” کہتےمزید پڑھیں
حالیہ تبصرے