جنگ قادسیہ
جنگ قادسیہ:
اسلام کی مشہور جنگ شروع ہونےلگی۔ رستم نے فوج کو تیاری کا حکم دیا ۔ دونوں لشکروں کے درمیان ایک نہر حائل تھی۔ رستم نے پل تیا کرلیا۔ حضرت سعد سے پوچھا کہ تم نہرپار کرکے حملہ کروگےیا ہم نہر پار کر کے حملہ کریں۔ سعد نے کہا تم ہی نہر کے اس پار آجاؤ۔ چنانچہ تمام ایرانی لشکر نہر عبور کر کے میدان میں آگیا۔ پہلے تیس ہزار ایرانیوں کا دستہ مقابلہ کے لئے آگے بڑھا۔ حضرت سعد بھی نکل آئے۔ وہ علیل بھی تھے۔ گھوڑے پر سوار نہیں ہو سکتے تھے۔ نہ چل پھر سکتے تھے۔ ایک پرانی عمارت کے قریب کھڑے ہو کر لڑائی کی ہر تدبیر بتاتے اور حکم دیتے رہے۔ شعراء نے رجز خوانی شروع کردی، قاریوں نے سورہ انفال کا آغاز کیا۔ تمام لشکر میں جوش و خروش ابل پڑا۔ ایرانی شہزادہ ہر مز نے پہل کی۔ وہ زریں تاج پہنے ہوا تھا۔ اس کے مقابلے کے لئے حضرت غالب بن عبداللہ آگے بڑھے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہر مزکو گرفتار کر کے حضرت سعد کے پاس بھیج دیا گیا۔ ایک اور ایرانی شہسوار نکل آیا۔ حضرت عاصم کے ایک دو وار ہی ہوئے تھے کہ وہ میدان سے بھاگا۔ حضرت عاصم نے تعاقب کر کے اس کو بھی گرفتار کر لیا۔ پھر ایرانی بہادر چاندی کا گرز لئے آگے بڑھا۔ اس کے مقابلہ پر حضرت عمرو بن سعدی کرب نکلے اور انہیں گرفتار کر کے لشکر اسلام میں لائے۔ رستم اس طرح اپنے کئی سرداروں کو گرفتار ہوتے دیکھ کر گھبرایا۔ گھمسان کی جنگ کا حکم دیدیا۔ سب سے پہلے ہاتھیوں کی صف کو آگے بڑھایا۔ بنو اسد نے مردانگی کے خوب جو ہر دکھائے۔ لیکن ان کی حالت نازک ہونے لگی۔ حضرت سعد نے فورا قبیلہ کندہ کے بہادروں کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے اس بہادری سے حملہ کیا کہ ایرانیوں کے پاؤں اکھڑ گئے ۔ یہ دیکھ کر رستم اپنی ساری قوت کا مظاہرہ کرنے لگا۔ حضرت سعد نے تکبیر کہی اور سارا اسلامی لشکر تکبیر للکار نے لگا اور ایک پر جوش حملہ کیا۔ حضرت عاصم نے نیزہ لے کر ہاتھیوں پر حملہ کیا۔ اسلامی بہادروں نے ہاتھیوں کے سونڈ کاٹنا اور نیزوں سے زخمی کرنا شروع کر دیا۔ ہاتھی پیچھے ہٹے۔ اور بہادروں کو تلوار کا بہار دکھانے کا موقع ملا۔ صبح سے شام تک میدان کا رزار گرم رہا۔ رات کی تاریکی نے جنگ کو دوسرے دن کے لئے ملتوی کر دی۔ یہ محرم ۱۴ ہجری کا واقعہ ہے۔
کل شہداء کی تعدا پانچ سوتھی۔ دوسرے دن کی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے مزید ایک لشکر لے کر آپہنچے اور خود میدان میں نکلے۔ ان کے مقابلہ کے لئے بہمن جادو یہ آیا، اور ہلاک ہوا۔ رستم نے یکے بعددیگرے کئی مشہور نامور ایرانی بہادروں کو میدان میں لایا اور وہ سب مقتول ہوئے ۔ رستم نے عام حملہ کا حکم دیا۔ شام تک دونوں فریق اپنی بہادری کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اس دن بھی ہاتھیوں کا لشکر مسلمانوں کے لئے سخت تھا، انہوں نے یہ تدبیر کی کہ اونٹوں پر بڑی بڑی جھولیں ڈال دیں۔ وہ بھی ہاتھیوں کی طرح مہیب نظر آنے لگے۔ ایرانیوں کے گھوڑے انہیں دیکھ کر بدکنے لگے۔ دوسرے دن ایک ہزار مسلمان اور دس ہزار ایرانی مارے گئے۔
تیسرے دن پھر جنگ کا بازار گرم ہونے لگا۔ ایرانی پھر ہاتھی لے آئے۔ عاصم نے ہاتھیوں کے سردار کو مارڈالا۔ فیل سفید کے مارے جانے پر ایک دوسرے ہاتھی پر حملہ ہوا۔ وہ بھی میدان سے بھاگا۔ اس کو بھاگتے دیکھ کر دوسرے ہاتھیوں نے بھی اس کی تقلید کی ۔ ہاتھیوں کی وجہ ایرانیوں کو تیسرے دن فائدے کے بجائے نقصان ہونے لگا۔ اس دن بھی شدت کی جنگ رہی۔ غروب آفتاب تک دونوں برابر لڑتے رہے۔ تھوڑے وقفہ کے بعد پھر لڑائی شروع ہوئی وہ رات بھر چلتی رہی۔ حضرت سعد رات بھر دعا میں مصروف رہے۔ آدھی رات کے قریب آپ نے حکم دیا کہ سب سمٹ کرغنیم کے قلب پر حملہ کریں اور رستم کو گرفتار کر لیں۔ مسلمانوں میں جوش ابھرا۔ حضرت قعقاع لڑتے لڑتے رستم کے زریں تخت تک پہنچ گئے ۔ رستم تخت سے اتر کر لڑنے لگا زخمی ہوا، پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگا۔ حضرت ہلال نے وار کیا اس کی کمر ٹوٹ گئی اور نہر میں گر پڑا۔ ہلال نے ٹانگیں پکڑ کر باہر کھینچ لایا اور اس کو قتل کر دیا۔ اسلامی فوج میں نعرہ تکبیر بلند ہوئی۔ ایرانیوں کے ہوش و حواس اڑ گئے ۔ میدان سے بھاگے۔ تقریباً تیس ہزار ایرانی مارے گئے، اس لڑائی میں چھ ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ بھاگتے ہوئے ایرانیوں کو حضرت زہرہ بن حیات نے تعاقب کیا۔ راستے میں ایرانیوں کا ایک سردار جالنیوس مفروروں کو روک کر مجتمع کرنا چاہا۔ زہرہ نے اس کو قتل کر دیا مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
قادسیہ کی فتح، فتحِ عظیم ثابت ہوئی۔ حضرت سعد نے فورا حضرت عمر کو فتح کی خوشخبری کا خط لکھا۔ فاروق اعظم کا یہ حال تھا کہ روزانہ صبح اٹھ کر مدینہ سے باہر دور تک نکل جاتے تھے اور قادسیہ کے قاصد کا انتظار کرتے دو پہر میں واپس ہوتے ۔ ایک روز ایک سوار دور سے نظر آیا۔ اسکی طرف لپکے۔ اس نے کہا قادسیہ سے خوشخبری لے آیا ہوں۔ حضرت عمر فتح کی تفصیلات سنتے ہی ،سوار کی رکاب پکڑے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے مدینہ میں داخل ہوئے۔ سوار کوعلم نہ تھا کہ یہ امیر المومنین ہیں۔ شہر میں جب داخل ہوئے تو ہر شخص سامنے آتا، امیر المومنین کو سلام کرتا اور حیرت میں رہ جاتا کہ آپ کیوں دوڑے دوڑے کسی سوار کارکاب پکڑے چلے آرہے ہیں۔ سوار کو اس وقت معلوم ہوا کہ آپ ہی امیر المومنین ہیں۔ وہ ڈرا اور اونٹ سے اتر نا چاہا لیکن فاروق اعظم نے کہا نہیں نہیں تم بدستور اونٹ پر سوار ہو اور حالات جنگ بتاتے چلو ۔ مسجد نبوی پہنچ کر لوگوں کو جمع کیا اور فتح کی خوشخبری سب کو سنائی۔
حضرت سعد نے فتح کے بعد دو مہینے تک قادسیہ میں قیام فرمایا۔ پھر مدائن کی جانب روانہ ہوئے۔وہاں سے بابل پہنچے جہاں ایک جنگ ہوئی۔ بابل بھی فتح ہوا۔ اسلامی لشکر آگے بڑھا۔ کوثر کے مقام پر ایرانی پھر مقابلہ کے لئے آئے۔۔ ایرانیوں کا مشہور سردار شہر یار آگے بڑھا۔ کوثی وہ مقام ہے جہاں نمرود نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو قید کیا تھا۔ شہر یار نے للکارا کہ مسلمانوں کا سب سے بہادر سردار سامنے آئے۔ یہ سن کر حضرت زہرہ آگے بڑھے اور کہا کہ تیرے مقابلہ کے لئے ہم ایک ادنی غلام بھیجتے ہیں۔ یہ کہہ کر قبیلہ بنو تمیم کے ایک غلام نائل بن جعشم کو حضرت زہرہ نے اشارہ کیا۔ شہر یار نائل کو کمزور سمجھ کر زمین پر گرادیا اور ان کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا۔ اتفا قا شہر یار کا انگوٹھا نائل کے منہ میں آگیا اور اس نے اس زور سے چبایا کہ شہر یار بے تاب ہو گیا ۔ نائل فورا اٹھ کر شہر یار کے سینہ پر چڑھ بیٹھا اور اس کا سر قلم کر دیا۔ شہر یار کے مارے جانے پر ایرانی فوج بھاگ نکلی اور فتح کوثی مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔ ایک اور مقام جس کا نام بہرہ شہر تھا جہاں ایرانیوں نے خوب تیاری کی تھی ، اسلامی لشکر کے خلاف مقابلہ کے لئے آمادہ ہوا۔ یہاں بھی مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ بہرہ شہر ایرانیوں کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد شاہ ایران یزد جرد نے اپنا خزانہ مدائن سے منتقل کرنے کی تدابیر سوچتا رہا۔ یزد جرد کا مدائن سے بھاگنا مسلمانوں کے لئے خطرات کا بدستور باقی رہنا تھا۔ حضرت سعد کے دل میں یہ بات آئی کہ مدائن پر فورا قبضہ کر لینا از حد ضروری ہے۔ لیکن دریائے دجلہ درمیان میں حائل تھا۔ اس کو عبور کر نا سخت دشوار تھا۔ ایرانیوں نے بہرہ شہر سے بھاگتے ہوئے پل کو مسمار کر دیا تھا۔ دور دور تک کوئی کشتی نظر نہیں آئی تھی ۔ سب تباہ کر دی گئی تھیں۔ دجلہ کے دوسرے کنارے پر ایرانی فوج موجود تھی۔ حضرت سعد نے فوج سے خطاب کیا تم میں کون ایسا بہادر ہے جو اپنی جمعیت کے ساتھ دریا پار کرے۔ حضرت عاصم نے یہ ذمہ داری قبول کی ۔ چھ سو تیر اندازوں کی ایک جماعت لے کر دجلہ میں رات کے وقت کود پڑے۔ اپنے گھوڑوں کو دریا میں ڈال دیا۔ ان کی تقلید میں دوسروں نے بھی جرات سے کام لیا اور دیکھتے دیکھتے لشکر اسلام دجلہ کی طوفانی موجوں کا مقابلہ کرتا ہوا دوسرے کنارے تک پہنچا۔ ایرانی تیر اندازوں کا جواب عاصم کے تیر انداز دینےلگے۔ اس واقعہ کی طرف شکوہ میں علاقہ اقبال کا اشارہ ہے۔
دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئے گھوڑے ہم نے
تاریخ سے ناواقف لوگوں نے علامہ اقبال پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس شعر میں ضعف ہے، گھوڑے بحر ظلمات میں کیسے دوڑ سکتے ہیں؟ انہیں پتہ نہیں رات کی تاریکی میں اسلامی بہادروں نے اپنے گھوڑے دجلہ میں اتار دئے تھے۔ اور اس کو عبور کر کے مدائن کو فتح کیا تھا جو ایرانیوں کا پائے تخت تھا۔ قادسیہ کے بعد یہ دوسری فیصلہ کن جنگ تھی۔
فتح مدائن :
شاہ ایران یزدجرد اپنے اہل و عیال اور خزانوں کو لے کر مدائن سے نکل گیا تھا۔ تاہم قصر ابیض ہاں ( شاہی محل ) اور دارالسلطنت میں مال و دولت کی کمی نہیں تھی۔ حضرت سعد قصر ابیض میں داخل ہوئے آٹھ رکعتیں صلوٰۃ الفتح کی پڑھیں۔ جہاں کسری کا تخت تھا وہاں۔۔۔
پہلی قسط:
اگر آپ کمپیوٹر سیکھنا چاہتے ہیں ، بالکل شروع اور ترتیب وارInPage, Microsoft Office (Microsoft Word, Excel, PowerPoint) Graphics design,تو یوٹیوب پہ سرچ کریں@tariqueforu/ https://youtube.com/@tariqueforu?si=YWiiQt3IPuUCtGgMاوپر دئے گئے لنک پہ کلک کریں اور پلے لسٹ میں جائیں جہاں آپ کو تمام کورسز کی تمام ویڈیوز ایک بعد ایک بالکل ترتیب وار مل جائں گی۔ مسلسل جڑے اور ٹیکنالوجی سیکھنے کیلئے چینل کو سبسکرائب کریں۔