میں کون ہوں اور مجھے کیا بننا ہے main-kon-hoon-aur-mujhe-kya-banna-hai

ہم خود کو پیچھے کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟

ہم خود کو پیچھے کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟
زندگی بدلنے کا اہم سبق
(خصوصی مضمون برائے گفتار)
نوجوانی وہ عمر ہے جہاں خواب سب سے زیادہ چمکتے ہیں، مگر حقیقت سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں انسان وقت سے مقابلہ کرتا ہے، خواہشوں سے لڑتا ہے، اور دنیا کی نظریں اس کی ہمت کو تولتی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آج کا نوجوان سب کچھ ہونے کے باوجود خود کو خالی اور کمزور محسوس کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے اندر صلاحیت ہے، لیکن اسے سمت نہیں ملتی۔ اس کے پاس ارادے ہیں، مگر ان پر عمل کرنے کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم خود کو کیوں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں؟
خود کو پہچاننے کا عمل سب سے مشکل کیوں؟
آج کے نوجوان بڑی آسانی سے دوسروں کو سمجھ لیتے ہیں۔ کسی کو دیکھتے ہی کہہ دیتے ہیں: “یہ ایسا ہے… یہ ویسا ہے…”۔ ہم دوسروں کی شخصیت، کمزوری، عادتیں اور قابلیت پر فوراً فیصلہ دے دیتے ہیں۔ لیکن جب بات خود کو پہچاننے کی آتی ہے تو ہم سب کی زبان خاموش ہوجاتی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکنے سے گھبراتے ہیں۔کیوں؟
کیونکہ اندر خامیاں بھی ہیں… سستی بھی ہے… ٹال مٹول بھی ہے… بہانے بھی ہیں…اور انسان وہ سب کچھ دیکھنا پسند کرتا ہے جو اسے خوش کرے، وہ نہیں جو اسے بدلنے پر مجبور کرے۔خود کو پہچاننے کا عمل تکلیف دیتا ہے، مگر یہی عمل انسان کو کامیابی کے سب سے قریب لے جاتا ہے۔
دوسروں کی زندگی کا بوجھ: اپنی زندگی کا نقصان۔
آج ایک نوجوان کے ذہن میں اپنی زندگی سے زیادہ دوسروں کی زندگی بھری ہوئی ہے۔ انسٹاگرام کے ریل دیکھ دیکھ کر اسے لگتا ہے کہ باقی سب خوش ہیں، صرف وہ پیچھے ہے۔ فیس بک کے اسٹیٹس پڑھ کر اسے محسوس ہوتا ہے کہ سب لوگ ترقی کر رہے ہیں، صرف وہی ناکام ہے۔لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔یہ دنیا نمائش کی دنیا ہے،جہاں ہر شخص اپنی بہترین تصویر دکھاتا ہے اور اپنی سب سے بری حالت چھپا لیتا ہے۔ہم دوسروں کو دیکھ کر اپنی زندگی کا معیار طے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ہمارا اعتماد کم ہوجاتا ہے،دل میں بے چینی بڑھتی ہےاور ہم اپنی منزل سے بھٹک جاتے ہیں۔جو نوجوان دوسروں کے ترازو میں خود کو تولتا ہے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
کل پر چھوڑ دینا:
نوجوں کی سب سے بڑی بیماری”کل سے پڑھوں گا…””کل سے ورزش کروں گا…””کل سے محنت شروع کروں گا…”کل… کل… کل…یہ کل انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔نوجوانوں کی بہت سی زندگیاں اسی کل کی نذر ہوگئیں۔ کبھی غور کیجیےزندگی کی ہر بڑی کامیابی آج کے فیصلوں سے جڑی ہوتی ہے، کل سے نہیں۔جو نوجوان اپنی زندگی کی کنجی کل کے حوالے کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود بخود پیچھے رہ جاتا ہے۔کامیابی ہمیشہ اُس کے قدموں میں آتی ہے جو آج قدم مضبوط رکھے۔
شور میں منزل نہیں ملتی بلکہ خاموشی میں ملتی ہے:
ہم ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں شور ہی شور ہے:نوٹیفکیشن کا شور،ٹرینڈز کا شور،سوشل میڈیا کا شور،موازنوں کا شوراور لوگوں کی رائے کا شور۔ اس شور میں انسان کو اپنی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔اگر کسی نوجوان کو اپنی زندگی سنوارنی ہے، تو اسے روز تھوڑی دیر کیلئے خاموشی میں بیٹھنا ہوگا۔خاموشی وہ استاد ہے جو انسان کو خود سے ملاتی ہے۔خاموشی وہ دوست ہے جو انسان کو اپنی کمزوریاں دکھاتی ہے۔خاموشی وہ چراغ ہے جو انسان کے راستے کو روشن کرتا ہے۔منزل ہمیشہ شور میں کھو جاتی ہے۔
ترجیح وہ ہے جو ہم قائم کریںجو دنیا بتائے وہ نہیں:
دنیا آپ کو کئی ترجیحات بتاتی ہے:“یہ کورس کرو!”“یہ فیلڈ منتخب کرو!”“یہ نوکری بہتر ہے!”“یہی راستہ کامیابی کا ہے!”لیکن دنیا آپ کے حالات نہیں جانتی۔ دنیا آپ کے خواب نہیں جانتی۔ دنیا آپ کی جدوجہد، صلاحیت اور درد نہیں جانتی۔اگر نوجوان اپنی ترجیحات خود طے نہیں کرے گا تو دنیا اس کیلئے غلط ترجیحات طے کر دے گی اور یہی نوجوانوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔زندگی آپ کی ہے، فیصلے بھی آپ کے ہونے چاہئے۔
ہم وقت کے پیچھے بھاگتے کیوں ہیں؟
نوجوان وقت کے پیچھے اس لئے بھاگتے ہیں کہ ان کی زندگی میں سمت نہیں ہوتی۔جب انسان کو پتہ نہ ہو کہ وہ کہاں جانا چاہتا ہے، تو وقت ہمیشہ کم پڑتا ہے۔اور جب سمت واضح ہو جائے تو وقت خود راستہ بنا دیتا ہے۔سوچنے کی بات ہے:کیا کبھی کسی نے منزل پر پہنچ کر کہا ہے: “میرے پاس وقت نہیں تھا”؟نہیں!وقت ہمیشہ انہیں کم پڑتا ہے جو بھٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔


سب کی مان لیناخود کی نہ سننا:
یہ سب سے بڑا نقصان ہے جو نوجوان خود کو دیتے ہیں۔ہم سب کی سنتے ہیں:ماں کی…استاد کی…دوستوں کی…سوشل میڈیا کی…دنیا کی…بس اپنی آواز نہیں سنتے۔لیکن دنیا تب تک آپ کی عزت نہیں کرے گی جب تک آپ خود اپنی آواز کی عزت نہیں کریں گے۔جو نوجوان اپنی آواز پہچان لیتا ہے، دنیا اسے کبھی نہیں روک سکتی۔
تبدیلی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
تبدیلی کسی بڑے قدم سے شروع نہیں ہوتی۔تبدیلی ہمیشہ ایک معمولی سی شرمندگی سے شروع ہوتی ہے: جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ وقت ضائع کر رہے ہیں، جب دل کہتا ہے کہ آپ اس سے بہتر کر سکتے تھے۔ جب دماغ کہتا ہے کہ اب رک جاؤ اور خود کو بدلویہی لمحہ اصل تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔
نوجوان ڈرائیوربنے مسافر نہیں:
زندگی کی گاڑی دو طرح کے لوگ چلاتے ہیں:1. مسافر :جو دوسروں کے فیصلوں کے سہارے چلتے ہیں2. ڈرائیور :جو اپنی راہیں خود بناتے ہیں۔
اب فیصلہ نوجوان کے ہاتھ میں ہے:کیا وہ زندگی بھر دوسروں کی مرضی سے چلتا رہے گا؟یا اپنی مرضی کا راستہ اختیار کرے گا؟جو نوجوان اپنی زندگی کا ڈرائیور بن جائے، دنیا اس کے آگے راستے بچھا دیتی ہے۔
آخری پیغام نوجوان کے نام:
آج رات صرف پانچ منٹ نکالیں،خاموشی میں بیٹھیں… موبائل سے دور… شور سے دور…اور خود سے ایک سوال پوچھیں:“میں کون ہوں… اور مجھے کیا بننا ہے؟”جو نوجوان اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیتا ہے، پوری دنیا اسے روک نہیں سکتی۔

https://guftar.in

اپنا تبصرہ بھیجیں