اسکرول کرتے کرتے ہم کہاں کھو گئے؟ | سوشل میڈیا اور زندگی

اسکرول کرتے کرتے ہم کہاں کھو گئے؟

اسکرول کرتے کرتے ہم خود کہاں کھو گئے؟
ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ ہم سوشل میڈیا پر کیوں جاتے ہیں۔ کوئی مقصد نہیں ہوتا، کوئی ارادہ نہیں ہوتا،بس انگلی چلتی رہتی ہے، اسکرین بدلتی رہتی ہے، اور وقت خاموشی سے سرک جاتا ہے۔ جب ہماری نظر گھڑی پر پڑتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ آدھا گھنٹہ گزر چکا ہے، مگر ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ نہ سکون، نہ علم، نہ سمت۔ صرف ایک عجیب سی دماغی تھکن۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اس تھکن کو آرام سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہم خود سے کہتے ہیں کہ دماغ کو تھوڑا وقفہ دینا ضروری تھا، مگر اصل میں ہم نے دماغ کو مزید بکھیر دیا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ہمیں آرام نہیں دیتا، وہ ہمیں مسلسل تحریک میں رکھتا ہے۔ ہر نئی ویڈیو، ہر نئی تصویر، ہر نیا تبصرہ دماغ کوبے چین کرتارہتاہے، اور ہم اسے تفریح وآرام کا نام دے دیتے ہیں۔
رفتہ رفتہ یہ عادت ہماری توجہ کو کمزور کر دیتی ہے۔ریلس دیکھتے دیکھتے ہم لمبی بات سننے سے گھبرانے لگتے ہیں، گہری سوچ ہمیں بور لگنے لگتی ہے، اور کسی ایک کام پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم بہت کچھ دیکھ لیتے ہیں، مگر کچھ بھی یاد نہیں رکھتے۔ یہ وہ خاموش نقصان ہے جس کا ہمیں احساس تب ہوتا ہے جب ہم کسی اہم کام میں بیٹھتے ہیں اور ہمارا ذہن ہمارا ساتھ نہیں دیتا بلکہ وہ ساری تصویریں اور ویڈیوز ذہن میں گردش کرتارہتاہےاور ہم پریشان رہتے ہیں کہ ہمارا دماغ کیوں کام نہیں کررہاہے۔
اسی دوران ہم دوسروں کی زندگیوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی سفر میں ہے، کوئی کامیابی کا جشن منا رہا ہے، کوئی خوشیوں کی نمائش کر رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب مکمل سچ نہیں، پھر بھی ہمارا دل اپنا موازنہ کرنے لگتا ہے۔ ہم خود کو پیچھے محسوس کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ہم نے اپنی رفتار خود سست کی ہوتی ہے۔ ہم اپنی زندگی بنانے کے بجائے، دوسروں کی زندگی دیکھنے میں برباد کرتے رہتے ہیں ۔اور زندگی کی قیمتی لمحات اور خوشحالی کو خود دائو پر لگارہے ہوتے ہیں لیکن احساس تب ہوتاہے جب وقت بیت چکا ہوتاہےاور ہاتھ کچھ نہیں آتا۔


یہاں مسئلہ سوشل میڈیا کانہیں، بلکہ ہماری بے خبری اور لاپرواہی کاہے۔ سوشل میڈیا ایک آلہ ہےچاقو کی طرح۔ اس سے پھل اور سبزیاں بھی کاٹی جا سکتی ہے اور ہاتھ بھی۔ جو لوگ اس پر سیکھنے آتے ہیں، وہ سیکھ لیتے ہیں، کسی نہ کسی میں مہارت حاصل کرکے ہنر مند ہوجاتے ہیں اور اس تیز رفتار زندگی کی دوڑ میں مقابلہ کے لئے اتر جاتے ہیں۔ جو لوگ بے سوچے سمجھے آتے ہیں، وہ کھو جاتے ہیںاور کف دست ملتے رہ جاتے ہیں کہ افسوس اس تیز رفتار زندگی کا مقابلہ کیسے کریں، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتاہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سوشل میڈیا پہ آنے کا مقصد کیا ہے۔


سوچیے، اگر روزانہ ہم اسکرول کے بیچ میں رک کر خود سے ایک سوال پوچھ لیں: “میں یہاں کیوں ہوں؟” تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ اگر ہم وقت مقرر کر لیں، اور اس سے زیادہ اسکرین کو اجازت نہ دیں، تو یہی وقت کسی کتاب، کسی ہنر، کسی مہارت یا کسی گہری سوچ کو دیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ زندگی کا رخ موڑ دیتے ہیں۔
زندگی تابناک بڑے فیصلوں سے نہیں ہوتی، بلکہ چھوٹے انکاروں سے بنتی ہے۔ ایک ویڈیو کو چھوڑ دینا، ایک اسکرول کو روک دینا، ایک لمحہ خود کو دے دینایہ سب معمولی لگتا ہے، مگر یہی معمولی فیصلے وقت کے ساتھ غیر معمولی نتائج پیدا کرتے ہیں۔ جو شخص اپنی توجہ کواپنے مقصد پر مرکوز کرلیتاہےوہ اس تیز رفتار زندگی کی بھیڑ میں اپنے لئے ایک روشن اورمنزل مقصود کیلئے راہیں ڈھونڈ لیتاہے۔

— خصوصی مضمون برائے گفتار —
“جہاں الفاظ سوچ میں بدلتے ہیں”

اپنا تبصرہ بھیجیں