حضرت عمر فاروق

پہلی قسط:-
عہد فاروق خلافت راشدہ کا زریں عہد ہے۔ حکومت الہیہ کا جو تصور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا اس کو عملی جامہ پہنانے والے عمر فاروق تھے۔ ان کا عہد تاریخ عالم کا ہی ایک سنہرا باب معلوم ہوتا ہے۔ اس کرہ ارض پر کئی عظیم ہستیاں اپنا جو ہر دکھا گئی ہیں۔ کوئی ارسطو ہے تو کوئی سکندر، کوئی نوشیرواں ہے تو کوئی جہانگیر کوئی ابو حنیفہ ہے تو کوئی ابراہیم ادھم، کوئی تیمور ہے تو کوئی نپولین، ان سب میں کوئی خاص جوہر تھا۔ ان سب کا جو ہر اگر کسی ایک شخص میں جمع ہوں تو وہ نابغہ روز گار کہلائے گا۔ حضرت عمر کے فتوحات سکندروتیمور، اکبرونپولین کے فتوحات سے کہیں زیادہ اور دیر پا ثابت ہوئے ہیں۔ عراق، شام، بصرہ، بحرین، مصر، فلسطین، فارس، خراسان، آذربیجان، خوزستان، کرمان و غیرہ فتح ہی نہیں ہوئے بلکہ دائمی مقبوضات اسلام بن گئے۔ عالم اسلام کے موجودہ پچاس سے زیادہ ریاستیں حضرت عمرؓ کے رہین منت ہیں۔ افلاطون اور ارسطو نے ایک اچھی ریاست کا صرف نقشہ پیش کیا تھا ان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے والے حضرت عمر تھے۔ نوشیرواں اور جہانگیر کا نام عدل وانصاف کے لئے لیا جاتا ہے۔ مگر حضرت عمرؓ کے عدل و انصاف کے مقابلے میں وہ کچھ نہیں۔ حضرت امام ابو حنیفہ، شافعی، مالکی، حنبلی، بخاری، سب بڑے مجتہد بزرگ گذرے ہیں۔جنہوں نے شریعت کو مضبوط کیا مگر ان سب کی جڑ بنیاد حضرت عمر نے پہلے ہی سے ڈال چھوڑی تھی۔ قضا و قدر کا مسئلہ، احادیث کا درجہ اعتبار، احکام خمس و غنیمت، قرآن مجید کی جمع و ترتیب، بیت المال کااجرا، سن ہجری کا قیام سکوں پر کلمہ شہادت، جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ممالک کی فتح کے بعد زمین کاشتکاروں کو دے دینا، مجاہدین کو زمین کے عوض وظیفہ مقرر کرنا، اذاں کا اجرا، علم فقہ کا آغاز، شراب نوشی کی روک تھام، آزادی رائے کی اجازت و غیرہ سب حضرت عمر کی سوچ کا نتیجہ تھیں۔ آپ نے علم اسرارالدین کی بنیاد ڈالی یعنی مذہب کے تمام احکام عقلی اصول پر مبنی ہیں۔ جس درخت کے نیچے حضور نے جہاد کی بیعت لی
تھی۔ اس کو جڑ سے کٹوا دیا، کیونکہ لوگ اس کی زیارت کو آتے تھے۔

آپ خاندان قریش کے شرفاء میں سے تھے۔ آپ کا نسب نویں پشت میں حضورۖ سے جاملتا ہے۔ واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد آپ کی ولادت ہوئی۔ حضور سے تیرہ برس چھوٹے تھے اور آپ نے بھی ترسٹھ سال عمر پائی۔ نبوت کے چھٹے سال میں اسلام لائے۔ تمام صحابہ حضورۖ کے مرید ہیں لیکن حضرت عمر حضور کی مراد ہیں۔ حضور نے آپ کو رب العزت سے مانگا تھا۔ قبول اسلام سے پہلے جیسی شدت کفر میں تھی اس سے کہیں زیادہ شدت اسلام کی حمایت میں قبول اسلام کے بعد ہوئی۔ حضور کے خاص مشیروں میں سے تھے۔ عہد صدیقی میں مدینہ کے قاضی تھے۔ جب خلیفہ ہوئے تو کرہ ارض کا نقشہ پلٹ کر رکھ دیا۔ ایک باب میں آپ نے صدیق اکبر پر بھی سبقت لے گئے یعنی آپ کو شہادت نصیب ہوئی۔ یکم محرم ۲۴ھ کے دن روضۂ نبوی میں حضرت صدیق کے پہلے شرف ابدی استراحت پائی۔

آپ کا اور حضرت صدیق کا مقابلہ برابر برابر کا تھا۔ دونوں حضور کے مشیر خاص تھے۔ دونوں کی صاحبزادیاں ازواج مطہرہ میں تھیں ۔ اگر صدیق اکبررفاقت رسول میں آگے تھے تو عمر فاروق خوف خدا و خدمت خلق میں آگے۔ اگر حضرت صدیق نے حضور کے ساتھ ہجرت کی تو حضرت عمر ہجرت سے پہلے ہی مدینہ پہنچ کر حضور کو خوش آمدید کہنے کا سارا انتظام مکمل کر دیا تھا۔ حضور کا کوئی غزوہ ایسا نہ تھا جس میں حضرت عمر شریک نہ ہوئے ہوں۔ کوئی معاہدہ یا کوئی اہم مرحلہ ایسا نہ تھا جس میں حضرت عمر کی رائے طلب نہ کی گئی ہو۔ آپ تحریک اسلام کے جزلا ینفک بن گئے تھے۔

آپ کا قبول اسلام کا منظر بھی عجیب تھا۔ ایک دن آپ حضور کو قتل کرنے کے ارادہ سے چلے تھے۔ راستہ میں معلوم ہوا کہ آپ کی بہن اور بہنوئی دونوں قبول اسلام ہو چکے ہیں۔ غضب ناک ہو کر بہن کے ہاں جاتے ہیں، بہنوئی کو خوب زدو کوب کرتے ہیں۔ بہن کہتی ہے تمہارا دل جو چاہے کرو ہم اسلام کی نعمت عظمی سے ہاتھ نہیں دھو سکتے ۔ یہ سن کر ایک خاص اثر ان کے دل پر ہوا اور قرآن مجید کو سننے کا شوق ہوا۔ بہن نے سورہ طہ کی ابتدائی آیتیں پڑھیں۔ ان کا سننا تھا کہ آپ میں ایک انقلاب بر پا ہو گیا۔ اسی وقت حضورۖ کی خدمت میں پہنچے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آج تک حضرت عمر سے بڑھ کر اسلام کا حامی کوئی نہ پیدا ہوا۔ حضرت صدیق نے بہ وقت وفات فرمایا کہ عمر سے بہتر کسی شخص پر آفتاب طلوع نہیں ہوا اور میں اللہ تعالیٰ سے کہوں گا کہ اے پروردگار اس وقت جو تیری مخلوق میں سب سے بہتر شخص جو تھا اس کو خلیفہ بنا کے آیا ہوں۔ یہ ذرا بھر مبالغہ نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ صرف تاریخ اسلام میں ہی نہیں بلکہ ساری انسانی تاریخ میں حضرت عمر کی حکمرانی پر سبقت لے جانے والا آج تک کوئی پیدا نہیں ہوا ہے۔ آپ کی خلافت میں اسلام کا اقبال بام عروج کو پہنچ گیا۔ تعلیمات نبوی کے سارے منصوبے عمل میں لائے گئے۔ قرآن مجید اور احادیث کی ساری پیش گویاں صحیح ثابت ہوئیں۔ فتوحات کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا۔ اقامت دین کو تقویت ملی۔ شریعت کا ڈھانچہ مکمل ہوا۔تہذیب و تمدن کے چراغ روشن ہوئے۔دس سال کی مدت میں وہ کام کیا جو صدیوں میں ہو نہیں پایا تھا۔

سب سے پہلے ایران فتح ہوا۔ خسرو پرویز نے حضور اکرم کا دعوت نامہ چاک کر کے پھینک دیاتھا۔ اس کی سزا ایسی ملی کہ مجوسی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور آج بھی ایران اسلامی شان کا مینار بن کر اغیار کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ حضرت عمرؓ نے ابو عبیدہ ثقفی کی سپردگی میں ایک فوج روانہ کردی۔ ایرانی فوج کا سپہ سالار رستم بن فرخ زادان تھا۔ گھمسان کی لڑائی کے بعد مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا۔ اس شکست کی خبر ایران کی ملکہ پوران دخت کو ملی تو اس نے ایک زبردست فوج صد ہا ہاتھیوں کے ساتھ بھیج دی۔ ابو عبیدہ اور ان کے ساتھی گھوڑوں سے اتر کر ہاتھیوں کے سونڈ کاٹنے لگے۔ ابو عبیدہ کا پاؤں پھسل پڑا۔ وہ گر پڑے۔ ایک ہاتھی نے انہیں کچل ڈالا۔ بہت سے شہید ہوئے۔
مثنٰی نے جھنڈ ا سنبھالا اور اس شورش سے حملہ کیا کہ ایرانیوں کو شکست ہوئی۔

رومیوں نے مسلمانوں کی مشغولیت کو غنیمت جان کر جنگ چھیڑ دی…… جاری…..
ملاحظه ہو: تاریخ اسلام کے جواہر پارے

اپنا تبصرہ بھیجیں